پاکستان کے دفاعی بجٹ میں اضافہ ، 3 ہزار ارب روپے مختص

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان کی وفاقی حکومت نے بجٹ 27-2026 کا اعلان کرتے ہوئے دفاعی بجٹ میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 17.6 فیصد کا اضافہ تجویز کیا ہے۔

جمعے کو قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ رواں برس دفاعی بجٹ کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

گذشتہ مالی سال (26-2025) میں دفاعی بجٹ میں 20.2 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 2550 ارب روپے اس ضمن میں مختص کیے گئے تھے تاہم بعدازاں نظرثانی کے بعد یہ رقم بڑھ کر 2595 ارب ہو گئی تھی۔

یاد رہے کہ سنہ 2024 میں مسلم لیگ ن کی حکومت کی جانب سے اپنا پہلا بجٹ (برائے سال 25-2024) پیش کرتے ہوئے دفاعی بجٹ میں 318 ارب روپے کا اضافہ کرتے ہوئے 2122 ارب روپے مختص کیے تھے۔ یعنی سادہ الفاظ میں گذشتہ تین برس کے دوران دفاع کے بجٹ میں 878 ارب روپے کا مجموعی اضافہ ہوا۔

پاکستان کا دفاعی بجٹ ملک کے مجموعی 18 ہزار ارب روپے حجم کے بجٹ برائے 27-2026 کا تقریباً 16.67 فیصد بنتا ہے۔

یاد رہے کہ فوجی پینشن کو دفاعی بجٹ کا حصہ نہیں بنایا جاتا اور بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی سرکاری ملازمین کی پینشن کی مد میں 1169 ارب روپے رکھے گئے ہیں جن میں سے 822 ارب روپے ریٹائرڈ فوجیوں کی پینشن کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

دفاعی بجٹ میں اس اضافے کا دفاع کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ کا اپنی تقریر میں کہنا تھا کہ ’خطے کی غیر یقینی صورتحال اور ملکی دفاع کو ناقابلَ تسخیر بنانے کے لیے دفاعی شعبے کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی مسلح افواج نے انڈیا کی جارحیت کا فیصلہ کُن جواب دیا، دُشمن کو پسپائی پر مجبور کیا اور ملک کی عسکری تیاری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔‘

بجٹ دستاویزات کے مطابق تین ہزار ارب روپے کے دفاعی بجٹ میں سے 967 ارب روپے ملازمین سے متعلق اخراجات کے لیے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ان میں فوجی افسران کی تنخواہیں، الاؤنس وغیرہ شامل ہیں۔ یہ گذشتہ برس کے مقابلے میں 14.36 فیصد اضافہ ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آپریشنل اخراجات بشمول ٹرانسپورٹیشن، میڈیکل اخراجات، راشن، ٹریننگ، فیول اور روزمرہ کے اخراجات کی مد میں 743 ارب سے زائد کی رقم رکھی گئی ہے۔

سب سے زیادہ اضافہ فزیکل اثاثہ جات کی مد میں کیا گیا جس کے لیے آئندہ مالی سال کے لیے 925 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس مد میں ہتھیاروں کی خریداری، فوجی سازو سامان اور گولہ و بارود خریدا جاتا ہے۔ گذشتہ برس اس مد میں 663 ارب روپے رکھے گئے تھے اور اب اس میں 39 فیصد سے زائد کا اضافہ کیا گیا۔

تعمیراتِ عامہ اور فوجی انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال اور نئی سہولیات کی تعمیر کی مد میں 336 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یہ گذشتہ برس کے مقابلے میں 7.92 فیصد اضافہ ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article