محراب خالد کی جبری گمشدگی طلبہ کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا تسلسل ہے، بی ڈبلیو ایف

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ وومن فورم (BWF) کے مرکزی ترجمان نے نیشنل کالج آف آرٹس (NCA) لاہور کے فلم میکنگ کے طالب علم محراب خالد کی جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے تعلیمی اداروں میں بلوچ طلبہ کے خلاف جاری انتقامی کارروائیوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

ترجمان کے مطابق، 29 مئی 2026 کو سیکیورٹی فورسز نے لاہور سے محراب خالد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا۔ واقعے کو کئی روز گزر جانے کے باوجود تاحال کسی بھی ادارے نے ان کی حراست کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی ان کے ٹھکانے یا قانونی حیثیت کے بارے میں خاندان کو کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ محراب خالد کی جبری گمشدگی نے ملک بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم بلوچ طلبہ کی سلامتی اور آزادی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بلوچ طلبہ جہاں کہیں بھی اپنی تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں مسلسل نگرانی، ہراساں کیے جانے، بلاجواز گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بلوچ وومن فورم کے ترجمان نے مزید واضح کیا کہ طلبہ کو نشانہ بنانا محض انفرادی کیسز تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ براہِ راست تعلیمی آزادی، فکری جستجو اور سیاسی اظہار کے حق پر حملہ ہے۔ جب طلبہ، فنکاروں اور محققین کو ان کے نظریات یا سرگرمیوں کی وجہ سے انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے، تو تعلیمی ادارے سیکھنے اور تخلیق کے بجائے خوف کے مراکز میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ محراب خالد کے ٹھکانے کو خفیہ رکھنا بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ان کا خاندان جواب کا حق رکھتا ہے اور مہراب خالد قانون کے تحت فراہم کردہ تحفظات کے حقدار ہیں۔

مرکزی ترجمان بلوچ وومن فورم (BWF) نے مطالبہ کیا ہے کہ محراب خالد کے ٹھکانے کے بارے میں فوری معلومات فراہم کی جائیں۔ انہیں بلا تاخیر اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔ تعلیمی اداروں میں بلوچ طلبہ کے خلاف جاری ہراساں کیے جانے کے سلسلے کو فوری بند کیا جائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article