پشتون سیاسی جماعتوں نے بلوچستان میں بدامنی اور اغوا کاری کا ذمہ دار حکومت اور ریاستی اداروں کو قرار دے دیا

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

پشتون سیاسی جماعتوں نے حکومت اور ریاستی اداروں کو بلوچستان میں بدامنی اور اغواء کاذمہ دار قرار دیدیاہے ۔

کوئٹہ میں پشتون ملت پال سیاسی و جمہوری جماعتوں کا ایک اہم اجلاس عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی کی رہائشگاہ پر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے کی صدارت میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی صدر احمد جان خان، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری برائے امورِ نوجوانان رشید خان ناصر، صوبائی سیکریٹری ثقافت حضرت علی اچکزئی اور پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی آفس سیکریٹری ندا محمد سنگر نے شرکت کی۔

اجلاس میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔

شرکاء نے ضلع ہرنائی کے شاہرگ میں پانچ سیاسی کارکنوں اور شہریوں کی ہلاکت اور چار افراد کے زخمی ہونے ضلع زیارت کے کلی مانگی سے 4افراد کے اغواء، قومی شاہراہوں پر ٹرالروں اور گاڑیوں کو نذرِ آتش کیے جانے اور بلوچستان بھر میں بڑھتی ہوئی بدامنی، دہشت گردی اور لاقانونیت کے واقعات پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کیا۔

اجلاس نے ضلع زیارت کے کلی مانگی سے اغواء کیے گئے چار افراد کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری اور محفوظ بازیابی کا مطالبہ کیا۔

اجلاس نے شاہرگ کے عوام کے تمام جائز مطالبات اور ان کی جاری جمہوری تحریک کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ عوامی حقوق کی جدوجہد کو دبانے کے تمام ہتھکنڈے ناکام ہوں گے اور پشتون ملت پال سیاسی قوتیں شاہرگ کے عوام کے ساتھ کھڑی رہیں گی۔

اجلاس میں بلوچستان میں جاری دہشت گردی، بدامنی، اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری، لاقانونیت، انسانی حقوق کی پامالی اور ریاستی جبر سے پیدا ہونے والی اذیت ناک صورتحال کی شدید مذمت کی گئی۔

شرکاء نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ، امن و امان کا قیام اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا وفاقی و صوبائی حکومتوں اور ریاستی اداروں کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے، مگر بدقسمتی سے اس حوالے سے مسلسل ناکامی نے عوام کو شدید عدم تحفظ، خوف اور بے یقینی سے دوچار کر دیا ہے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ بلوچستان کے طول و عرض میں بڑھتی ہوئی بدامنی، دہشت گردی، اغواء، قتل و غارت، شاہراہوں پر مسلح کارروائیاں اور عوامی املاک کی تباہی اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام کے تحفظ کے حوالے سے ریاست اور حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

شرکاء نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ بھاری سیکورٹی انتظامات، وسیع اختیارات اور بے پناہ وسائل کے باوجود شہریوں کی جان و مال محفوظ نہیں اور عوام مسلسل خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اجلاس نے واضح کیا کہ بلوچستان میں جاری بدامنی، دہشت گردی اور امن و امان کی ابتر صورتحال کی سیاسی، انتظامی اور اخلاقی ذمہ داری وفاقی و صوبائی حکومتوں اور متعلقہ ریاستی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔

شرکاء نے مطالبہ کیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے، اغواء شدگان کی فوری بازیابی، دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام اور امن کے قیام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اجلاس میں ان تمام دہشت گردانہ اور انسانیت سوز واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان کی تمام سیاسی و جمہوری جماعتوں کا ایک وسیع تر مشترکہ اجلاس جلد طلب کیا جائے گا، جس میں موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے کر عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن کے قیام اوربلوچستان کو درپیش سیاسی و سیکورٹی چیلنجز کے حل کے لیے مشترکہ لائح? عمل مرتب کیا جائے گا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article