لاپتہ افراد۔۔۔طاقت کا استعمال اور بلوچستان کے سنگین حالات | عطاء اللہ کرد

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان میں حالات ایک بار پھر تشویشناک رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ بدامنی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر اس کے باوجود حکومتی مؤقف یہی ہے کہ ماضی میں بلوچستان کے معاملے میں ضرورت سے زیادہ نرمی برتی گئی۔ جبکہ موجودہ پالیسی میں طاقت کے استعمال کو مسئلے کے حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہی پالیسی درست سمت ہے تو پھر آج حالات پہلے سے زیادہ خراب کیوں دکھائی دے رہے ہیں؟
یہ درست ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ کئی دہائیوں پر محیط ہے اور ہر دورِ حکومت اپنی الگ حکمتِ عملی کے ساتھ سامنے آیا، مگر موجودہ صورتحال اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرنے دیتی کہ بدامنی بے اعتمادی اور فاصلے کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئے ہیں۔ اگر طاقت کے استعمال کو ہی مؤثر راستہ سمجھا گیا تھا تو پھر یہ پوچھنا بھی ضروری ہے کہ ڈھائی برس کے دوران حالات میں بہتری کیوں نہ آ سکی۔

آج بلوچستان میں صرف روزگار اور معاشی حالات ہی نہیں بلکہ لوگوں کی روزمرہ زندگی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ کئی علاقوں میں سفر خوف کا باعث بن چکا ہے، سرحدی تجارت تقریباً بند ہوتی جا رہی ہے، اور روزگار کے مواقع ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ سب سے زیادہ فکر کی بات نوجوانوں کی صورتحال ہے جو مایوسی اور بے یقینی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی واضح امید دکھائی نہیں دیتی۔ جب ایک پوری نسل خوف غصے اور محرومی کے ماحول میں پروان چڑھنے لگے تو بے اعتمادی اور بے چینی مزید گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔

بلوچستان کے وزراء ،پاکستان کے وزراء اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اراکینِ اسمبلی خود پارلیمنٹ کے فلور پر یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں نہیں جا سکتے۔ اس سے بڑا اعتراف شاید ہی کوئی اور ہو سکتا ہے کہ بلوچستان کے حالات کس حد تک سنگین ہو چکے ہیں۔

بلوچستان کے مسئلے کو صرف سیکورٹی کے زاویے سے دیکھنا شاید ہمیشہ سے سب سے بڑی غلطی رہی ہے۔ یہاں سیاسی مسائل موجود ہیں۔ احساسِ محرومی موجود ہے اور سب سے بڑھ کر لاپتہ افراد کا وہ مسئلہ موجود ہے جس نے ہزاروں خاندانوں کو مسلسل ذہنی اذیت میں مبتلا رکھا ہوا ہے۔ جب تک اس معاملے کو سنجیدگی کے ساتھ حل کرنے کی کوشش نہیں ہوگی، اعتماد کی فضا بحال ہونا آسان نہیں۔

اسی طرح جیلوں میں موجود سیاسی کارکنوں اور سیاسی قیادت کے ساتھ بھی مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ دنیا کے بڑے تنازعات بالآخر بات چیت کی میز پر ہی حل ہوئے ہیں۔ موقف کتنا ہی سخت کیوں نہ ہو۔ کشیدگی کتنے ہی شدید کیوں نہ ہوں ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جہاں مذاکرات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ اصل سیاسی بصیرت یہی ہوتی ہے کہ اس راستے کو بروقت تلاش کیا جائے۔

اگر آج بھی تمام تر توجہ صرف طاقت کے استعمال پر مرکوز رہی تو خدشہ یہی ہے کہ بلوچستان کا بحران مزید پیچیدہ ہوتا جائے گااور صورتحال مزید خطرناک رخ اختیار کرتی جارہی ہیں۔

***

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article