بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت اور پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد سے طالب علم سمیت 2 بلوچ نوجوان پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ ہوگئے جبکہ پنجگور سے ایک لاپتہ فرد کی بازیابی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
اسلام آباد سے اطلاعات ہیں کہ خضدار سے تعلق رکھنے والے کمبیر خان جتک ولد علی محمد جتک، جو قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں آرکیالوجی کے طالب علم ہیں، کو گزشتہ رات تقریباً 9 بجے I-8 مرکز اسلام آباد کے قریب خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
ساتھی طلباء کے مطابق انہوں نے متعلقہ تھانے اور اسلام آباد انتظامیہ سے متعدد بار رابطہ کیا، تاہم نہ تو کمبیر جتک کی گرفتاری کی وجوہات بتائی جارہی ہیں اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جارہی ہیں، جس کے باعث اسلام آباد میں زیر تعلیم بلوچ طلباء میں شدید بےچینی پائی جاتی ہے اور وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
دوسری جانب ضلع کیچ کے علاقے شےکہن، تربت کے رہائشی 33 سالہ کیا ولد محمد عیسیٰ پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار ہوگئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کیـّا، جو متحدہ عرب امارات میں ڈرائیور کے طور پر کام کرتے تھے، کو 23 اپریل 2026 کی شب تقریباً تین بجے ایف سی اہلکاروں نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر حراست میں لیا اور بعد ازاں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
واقعے کے بعد سے ان کے اہلخانہ شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔
دریں اثنا ضلع پنجگور کے علاقے پروم سے تعلق رکھنے والے کریم ولد عبدالرشید کی بازیابی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق کریم کو 2 اپریل 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، تاہم آج 17 مئی 2026 کو انہیں پنجگور میں رہا کردیا گیا۔