بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں ضلع گوادر کے تحصیل جیونی میں پاکستان کوسٹ گارڈ پر حملہ ، 2 اہلکاروں کی ہلاکت اور تمپ و کولواہ میں فوجی تنصیبات و مواصلاتی نظام کو نشانہ بنا نے کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 8 مئی 2026 کو بلوچستان کے ساحلی شہر جیونی میں کنٹانی کے مقام پر ایک کامیاب انٹیلیجنس کارروائی کرتے ہوئے قابض ریاست کی ذیلی فورس کوسٹ گارڈ کے دو اہلکاروں کو اس وقت مسلح حملے میں نشانہ بنایا، جب وہ موٹر سائیکل پر گشت کر رہے تھے۔ سرمچاروں کی اس بروقت اور موثر کارروائی کے نتیجے میں دونوں اہلکار سپاہی کاشف ظفر اور سپاہی مدثر جانزیب موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ حملے کے بعد سرمچاروں نے ہلاک ہونے والے اہلکاروں سے دو جی 3 رائفل اپنے قبضے میں لے لیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اہلکار علاقے میں غریب ماہی گیروں اور تیل کے کاروبار سے وابستہ بلوچ عوام پر ہونے والے انسانی سوز مظالم میں براہِ راست ملوث تھے۔ کوسٹ گارڈ کے یہ کارندے تسلسل کے ساتھ مقامی آبادی پر تشدد کرنے، ان کی موٹر سائیکلیں اور کشتیاں نذرِ آتش کرنے اور تیل کے ڈپوؤں کو جلا کر عام بلوچوں کا معاشی استحصال کرنے کے ذمہ دار تھے۔ سرمچاروں نے ان اہلکاروں کو عین اس وقت نشانہ بنایا جب وہ ایک بار پھر غریب عوام کی املاک اور کشتیاں جلانے کی غرض سے وہاں پہنچے تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ سرمچاروں نے 6 مئی 2026 کو کولواہ ہی کے علاقے بل یعقوب بازار میں قابض پاکستانی فوج کی جانب سے سرمچاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے نصب کیے گئے جاسوسی اور نگرانی کے کیمروں کو نشانہ بنا کر مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ سرمچاروں نے 5 مئی 2026 کو ضلع کیچ کے علاقے تمپ، قلات میں قابض پاکستانی فوج کی چوکی پر گرنیڈ لانچرز سے حملہ کیا۔ سرمچاروں کے داغے گئے متعدد گولے نشانے پر لگے، جس کے نتیجے میں قابض فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
تنظیم کے مطابق سرمچاروں نے 4 مئی کو کولواہ کے علاقے جیرک میں دشمن فوج کے کیمپ کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں سرمچاروں نے مارٹر گولوں کا استعمال کیا، جو کیمپ کے احاطے میں گرے۔ اس حملے میں دشمن فوج کے متعدد اہلکار زخمی ہوئے اور کیمپ کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل، 25 اپریل 2026 کو سرمچاروں نے آواران کے علاقے کولواہ گیشکور، ھور کے مقام پر قابض فوج کے لیے جاسوسی کے آلے کے طور پر استعمال ہونے والے موبائل ٹاور کو نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے ٹاور کی مشینری کو فائرنگ کر کے ناکارہ بنا دیا اور اس پر نصب دیگر مواصلاتی آلات کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ جیونی میں کوسٹ گارڈ کے دو اہلکاروں کی ہلاکت، تمپ اور کولواہ میں فوجی تنصیبات و مواصلاتی نظام کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔