تربت یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی گاڑی نامعلوم مسلح افراد نے چھین لی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت اور اس کے گرد و نواح میں سرکاری افسران کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اتوار کی شام تربت یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر گل حسن بلوچ کی گاڑی نامعلوم مسلح افراد نے گن پوائنٹ پر چھین لی۔

واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ تربت سے کوئٹہ جا رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے تربت کے قریب وائس چانسلر کی گاڑی کو روک کر اس پر قبضہ کر لیا اور فرار ہو گئے۔ گاڑی چھن جانے کے بعد ڈاکٹر گل حسن بلوچ تقریباً ایک گھنٹے تک سڑک پر کھڑے رہے، جس کے بعد انہوں نے ایک مسافر بس کے ذریعے کوئٹہ روانگی اختیار کی۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب گزشتہ چند دنوں میں اسی نوعیت کی متعدد وارداتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔ چند روز قبل کمشنر مکران کی گاڑی کو بھی کوئٹہ سے تربت آتے ہوئے سوراب کے مقام پر چھین لیا گیا تھا، جبکہ کمشنر کے ڈرائیور اور گارڈ کو اغوا کر کے لاپتہ کر دیا گیا ہے۔

ہفتے کی شب تربت میں ڈی ایس پی کی گاڑی بھی مسلح افراد نے روک کر اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا اور اس دوران پولیس اہلکاروں کا سرکاری اسلحہ بھی چھین لیا گیا تھا۔

علاقے میں بڑھتی ہوئی وارداتوں نے سیکیورٹی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ شہریوں اور سرکاری افسران میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔

Share This Article