ایران کے سرکاری میڈیا نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے جن کے مطابق آج اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ فصائی حملے میں ملک کے سینیئر سیاسی حکام اور آرمی چیف مارے گئے ہیں۔
ایرانی صدر کے ایگزیکٹو ڈپٹی نے ایکس پر لکھا کہ ’صدر مسعود پزشکیان محفوظ ہیں۔‘
صدر کے بیٹے یوسف پزشکیان نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ ’ان کو قتل کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔‘
ایرانی فوج نے اپنے کمانڈر میجر جنرل امیر حاتمی کی ہلاکت کی تردید کی ہے اور فارس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
واضح رہے کہ اسرائیل ڈیفینس فورسز کا کہنا ہے کہ اس نے تہران میں ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں اعلیٰ سیاسی اور سکیورٹی شخصیات جمع تھیں۔
دوسری جانب ایران میں ایک مقامی گورنر نے ملک کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کو بتایا ہے کہ ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان کے ضلع میناب میں لڑکیوں کے پرائمری سکول پر ہونے والے اسرائیلی حملے کے نتیجے میں کم از کم 53 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ہرمزگان کے گورنر محمد ردمہر نے ارنا کو بتایا کہ اسرائیلی حملے کے نتیجے میں’شجرہ طیبہ‘ نامی لڑکیوں کا سکول نشانہ بنا۔ گورنر کے مطابق اس حملے میں 63 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔
ایران کے محکمہ تعلیم کے ترجمان علی فرہادی نے ارنا کو بتایا کہ اتوار کے روز سکول کو تین میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
بی بی سی اس خبر کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ یاد رہے کہ ایران کی جانب سے بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے نمائندوں کو ویزوں کا اجرا نہیں کیا جاتا ہے جس کے باعث خبروں کی آزادانہ تصدیق میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ علاوہ ازیں، ایران میں اس وقت تقریباً مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ بھی ہے۔