افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) کا کہنا ہے کہ حالیہ پاکستانی حملوں کے بعد اسے ننگرہار اور پکتیکا صوبوں میں شہری ہلاکتوں سے متعلق ’تشویشناک اطلاعات‘ موصول ہوئی ہیں۔
یوناما نے پیر کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق‘ ننگرہار میں ’کم از کم 13 شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، ہلاک جبکہ سات دیگر زخمی ہوئے ہیں۔‘
بیان میں پکتیکا کے ضلع برمل کے گاؤں مرغئی میں ایک مدرسے اور ضلع ارغون کے علاقے دہنہ میں ایک نجی رہائشی مکان پر حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم کہا گیا ہے کہ ان علاقوں سے تاحال شہری ہلاکتوں کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’شہریوں کے تحفظ اور مزید جانی نقصان سے بچاؤ کے لیے دشمنی ختم کریں‘ اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق ’شہری ہلاکتوں کی روک تھام کے لیے احتیاط کے اصولوں کو مدِنظر رکھیں۔‘
یاد رہے اس سے قبل طالبان حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ ننگرہار کے ضلع بہسود میں حالیہ پاکستانی فضائی حملوں میں ایک ہی خاندان کے 18 افراد ہلاک جبکہ پانچ دیگر زخمی ہوئے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خوگیانی میں کم از کم دو اور پکتیکا کے برمل میں ایک شخص زخمی ہوا ہے۔
پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں سات عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور درجنوں شدت پسند مارے گئے۔