بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دو روز کے دوران تین نوجوان طلبہ کی ہلاکتوں نےبلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی ) نے ان واقعات کو تشویشناک سلسلے کا حصہ قرار دیتے ہوئے آزاد اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پنجگور کے علاقے وشبود سے 14 فروری کو ایف ایس سی کے طالب علم نواب عبداللہ کی لاش برآمد ہوئی۔ وہ 29 مئی 2025 کو اپنے گھر سے مبینہ طور پر سیکیورٹی اہلکاروں اور مسلح افراد کے ہاتھوں حراست میں لیے گئے تھے۔
آٹھ ماہ تک ان کے اہلِ خانہ کو ان کی کوئی خبر نہ مل سکی۔
بی وائی سی کے مطابق لاش پر تشدد اور گولیوں کے نشانات موجود تھے، جسے تنظیم نے بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے سلسلے کا تسلسل قرار دیا۔
اسی روز 14 فروری کو کیچ کے علاقے تمپ میں 17 سالہ طالب علم مہنس بلوچ کو فائرنگ کے ایک واقعے میں قتل کر دیا گیا۔ مقامی ذرائع نے اسے "ٹارگٹ کلنگ” قرار دیا ہے۔
بی وائی سی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس وسیع تر صورتحال کی عکاسی کرتا ہے جس میں نوجوانوں اور شہریوں کو عدم تحفظ، خوف اور تشدد کا سامنا ہے۔
15 فروری کو پنجگور کے علاقے شاپاتان سے میٹرک کے طالب علم جنگیان بلوچ کی لاش ملی۔ وہ 26 مئی 2025 کو جنین پروم سے مبینہ طور پر فرنٹیئر کور اور ایک مسلح گروہ کے ہاتھوں لاپتہ ہوئے تھے۔
اہلِ خانہ نے ان کی بازیابی کے لیے عدالتوں اور متعلقہ اداروں سے رجوع کیا تھا، تاہم کئی ماہ بعد ان کی لاش مبینہ تشدد کے نشانات کے ساتھ برآمد ہوئی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے تینوں واقعات کو بلوچستان میں بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی صورتحال کا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف گزشتہ ہفتے میں ایسے دس سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
تنظیم نے اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کی آزاد تحقیقات کرائیں۔ ذمہ داروں کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔ شہریوں کے تحفظ اور بنیادی حقوق کی ضمانت یقینی بنائی جائے۔
بی وائی سی کے مطابق بلوچستان کے عوام مسلسل خوف، عدم تحفظ اور ریاستی اداروں پر عدم اعتماد کی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔