بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے علاقے علاقے کلی بنگلزئی سریاب کسٹم سے جبری لاپتہ تنویر احمد اور شبیر احمد کی والدہ بی بی شاہدہ نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 3 فروری کی رات ایک بجے ایف سی اور دیگر ملکی اداروں کے اہلکاروں نے ہمارے گھر واقع کلی بنگلزئی، سریاب کسٹم پر چھاپہ مارا، میرے دو بیٹے تنویر احمد اور بشیراحمد ولد شبراحمد کو میری آنکھوں کے سامنے حراست میں لے کر اپنے ساتھ لے گئے، میں نے ان سے التجا کی کہ میرے بیٹوں کو چھوڑ دو، انہوں نے مجھ سے کہا کہ اماں آپ کے بیٹوں سے گاڑی میں کچھ تفتیش کرینگے اور انہیں آج رات کو چھوڑ دینگے، لیکن آج 12 دن گزر گئے نہ میرے بیٹوں کو چھوڑ دیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے خیریت کے حوالے سے ہمیں معلومات فراہم کیا جارہا ہے جسکی وجہ سے ہمارا خاندان شدید ذہنی کرب و اذیت میں مبتلا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے تنویر احمد کا عمر 17 سال اور بشیراحمد کی عمر 15 سال ہے میرا شوہر فوت ہوچکا ہے میرے بیٹے یتیم ہیں میں ایک بے سہارا ماں ہوں، میں کچھ بھی نہیں سمجھتا ہوں کہ میں اپنے بیٹوں کے لیے کیا کروں، میں آج وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ آکر اپنی فریاد آپ لوگوں کے سامنے بیان کررہی ہوں، تاکہ کوئی میری التجا کو سنے اور میرے بیٹوں کی بازیابی میں اپنی کردار ادا کریں۔
آخر میں انہوں نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ لوگوں کی توسط سے اعلیٰ حکام سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ میرے بیٹوں کی بازیابی کو یقینی بنائیں، میرے بیٹے معصوم اور بے گناہ ہیں اگر ان سے کوئی غلطی سرزد ہوا ہے تو انہیں منظر عام پر لاکر عدالت میں پیش کرکے مجھے میرے بیٹوں کی جبری گمشدگی کی اذیت سے نجات دلائی جائے۔