بلوچستان کے ضلع نوشکی میں گزشتہ چند دنوں سے پاکستانی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ کلی جمالدینی، کلی مینگل اور قادر آباد میں پہلے بھی فوجی جارحیت کیے گئے تھے، جن میں گھروں کی تلاشی اور املاک کو نقصان پہنچنے کی شکایات سامنے آئیں۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق فورسز نے2 عمر رسیدہ افراد کو جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے، مختلف مقامات پر چھاپوں کے دوران گھروں میں لوگوں کو زد و کوب کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ فورسز نے نوشکی کے کلی مینگل اور قادر آباد کے علاقوں کو مکمل گھیرے میں لیکر گھروں پر چھاپے ماریں۔ جہاں دو عمر رسیدہ افراد حافظ عبدالستار مینگل سکنہ قادر آباد اور میر عبدالرزاق بادینی کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق غریب آباد اور مرکزی بازار کو گھیرے میں لے کر دکانیں بند کرا دی گئی ہیں۔ نقل و حرکت محدود ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔ سرکاری حکام کی جانب سے اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان تاحال سامنے نہیں آیا۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائی کے دوران کم از کم 22 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جنہیں نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ زیرِ حراست افراد کی شناخت اور مزید تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہو سکیں۔
خیال رہے اکتوبر 2022 میں میر عبدالرزاق بادینی کے بیٹے فرید بادینی کو سی ٹی ڈی نے خاران میں ایک جعلی مقابلے میں قتل کردیا تھا۔ فرید بادینی کو 28 ستمبر 2022 کو کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔