بدلتے سیاسی حالات اور جنوبی ایشیا …. کمال بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
13 Min Read

تحریر: کمال بلوچ

جی چاہتا ہے کہ دنیا کی موجودہ سیاسی صورتحال پر کچھ نہ کچھ لکھوں۔ مگر اس تذبذب کا شکار رہا ہوں کیونکہ قلم کے ساتھ انصاف کر نا مشکل ہو تا ہے۔ سیاست میں اصل صورتحال پرکھرا اترنا مشکل نہیں بلکہ نا ممکن ہے۔سیاست میں نشیب وفراز آتےرہتے ہیں۔دنیا کی بدلتی ہوئی حالات پرجائزہ لینےکی کو شش کریں تو ہمیں سپر پاور اورمستقبل میں نئی ابھرنے والی طاقتوں کے درمیان ایک طویل عرصے سےسرد جنگ کی شدت محسوس ہو رہی ہے۔ کو ئی اپنی طاقت کو برقرار رکھنے کے لئے سوچتا ہے تو کو ئی طاقت حاصل کرنے اور اسے بڑھانے کےلئے تگ و دو کرتاہے،اپنی مقصد کوپانےکےلئے ہر طریقہ کار بروئے کار لایا جاتا ہے۔ ٹیکنا لوجی کی مد د سے دنیا میں جو نئی جدت پر کام ہو رہی ہے، انکی مدد سے ایک طاقت دوسری طاقت کو زیر کرنے کی کو شش میں ہوتا ہے۔ خاص کر ٹیکنالوجی کی مد د سے ایک دوسرے پر برتری حاصل کرتے نظر آتے ہیں۔ چین میں ہواوے کمپنی جو اس وقت دنیا میں فائیو جی یعنی ففتھ جنریشن کو متعارف کر رہی ہے، یہ کئی طاقتوں کیلئے قابل قبول نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چائنا اس ٹیکنالوجی کے ذریعے جا سوسی کر نا چاہتاہے۔’’نکسن اپنی کتاب میں چین کے بارے میں لکھتا ہے ”چائنا وہ سویا ہو ا ہاژدھا ہے اس کو مت چھیڑیں“۔ اب اس بات کا مطلب واضح ہے۔ انکے مکروہ عزائم سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ نکسن کی باتیں کا فی غور طلب ہیں۔ اب جنگ کی جونئی شکل دنیا میں سامنے آچکی ہے یہ بھی دوسرے ہتھیاروں کی جنگ جیسے خطرنا ک ہے۔ ٹیکنالوجی کی مد د سے عالمی طاقتیں براہ راست ذہنوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ریاستوں کی مخصوص آلات یا نظام تک رسائی کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دوڑ میں پہلے ہی چین اور امریکہ نے شک کی بنیاد پر کئی لوگوں کو زندانوں میں بند کی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ انکی اہم رازوں تک رسائی کی کوشش میں تھے۔

عالمی نقطہ نگاہ کوسمجھنے کی ضرورت ہے۔ جس طرح کو رونا وائرس، جو چائنا میں پیدا ہوا۔ اس وائرس سے متعلق ڈبلیو ایچ او کو قبل از وقت اطلاع نہ دینے کی وجہ سے اسے کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اب اس وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لی ہے۔ اس وقت کسی کے قابو میں نہیں آ رہا ہے۔ یہ بھی چین کی شاطرانہ سوچ کا عکاس ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ چین دنیا کے لئے ایک درد سر ہے۔ نکسن کی بات صداقت پر مبنی ہے۔

سیاست مفادات کی جنگ ہے۔ اپنی معاشی و عسکری طاقت کو مضبوط تو انائی دینے کےلئے عالمی طاقتیں جو طریقہ کار استعمال کریں، انکے سامنے کھڑا رہنا مشکل ہے۔ اب یہ دیکھیں مفادات کی دنیا میں مفادات کی سیاست میں ہر ایک دوسر ے سے آگے اور زیادہ نمایا ں نظر آتا ہے۔ اس جدت کی دور میں بھی دنیا میں ایسی طاقتیں موجود ہیں جو اجتماعی سوچ کو پروان چڑھاتے ہیں۔ عالمی امن کے لئے جو کام کررہے ہیں۔ عالمی امن دنیا کےلئے انتہا ئی ضروری ہے۔ کیا امن کے حوالے وہ طاقتیں سنجیدہ نظر آتے ہیں ۔۔؟لیکن حقیقت یہی ہے اجتماعی مشکلا ت کا حل عالمی امن میں موجود ہے۔ اس کیلئے ہر فرد اور چھوٹی قومیتوں کو انکی قومی حقوق میسر ہونا لازمی ہے۔

دنیا کی بدلتی ہو ئی سیاست پر اگر طاہرانہ نظر دوڑائی جائے تو پو ری دنیا کی سیاست واضح نظر آتی ہے۔ دنیا کے سپر پاور ممالک اس وقت کیا چاہتے ہیں؟ ایک طاقت دوسری طاقت کے خلاف میڈیا وار میں مصروف ہے۔ اسے سرد جنگ کہنا زیادہ مناسب ہے۔ امریکی صدراتی الیکشن سے قبل دنیا کی سیاست میں کافی کچھ ہلچل ہوتی نظر آرہی ہے۔ کافی تجزیے ہو رہے ہیں۔ اسکے اثرات دنیا کی سیاست میں پائے جاتے ہیں۔ امریکی کی فارن پالیسیوں میں کافی تبدیلی نظر آئی ہے۔ خاص کر ٹرمپ کی صدرات کے دور میں جنوبی ایشیا کی سیاست میں پو ری طرح تبدیلی لائی ہے۔ اس کے پیش نظر ہمارے خطے میں بھی کچھ تبد یلیاں نظر آتی ہیں۔ اس وقت افغانستان میں امریکہ طالبان کے ساتھ مزکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی افواج واپس بلانے کا عمل جاری ہے۔ اس پر مختلف آرا بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کامیابی کی شکل اختیار نہیں کرپا رہا ہے۔ افغان آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔ خانہ جنگی میں شدت آ جائے گی۔

دنیا میں ترکی کے حوالے سےمیڈیا میں کافی بحث مباحثہ ہو رہی ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کو کچھ جگہوں میں کچھ خاص میڈیا میں عالم اسلام کا نما ئندہ کہا جا رہا ہے۔ کیا حقیقی بنیاد پر اردگان اس کھرے اترتے ہیں ، چین جو پاکستان اور ترکی کی مدد کررہی ہے اُس کے مقاصد واضح ہیں۔ امریکہ کیا چاہتاہے یہ کافی غور طلب ہے۔ اب یہ تبدیلیاں اس خطے میں پسے ہوئے اقوام کی سیاست پر زیادہ اثر انداز ہو رہی ہیں۔ چین جس پالیسی پر عمل پیرا ہے وہ بھاری قرضے ہیں۔ وہ قرضوں کے ذریعے اکثر ممالک کو اپنے اثر و رسوخ میں لا رہی ہے۔ اس میں چین کافی حد تک کامیا ب ہو تی نظر آتی ہے۔ افریقی ممالک میں چین کی موجود گی اس بات کی غماز ہے کہ چین تو سیع پسندی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ چین ایسٹ ایڈیا کمپنی کی طرح دنیا میں پھیل رہی ہے اور وہی کردار دُہرا رہی ہے۔

اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس خطے میں جہاں چین اور انڈیا دو بڑی طاقتیں ہیں۔ لیکن انکی آپسی تعلقات تنا زعے کے شکار ہیں۔ دو بڑی طاقتیں ہو نے کے ساتھ ساتھ وہ ایک دوسرے کا ہمسایہ بھی ہیں۔ مشترک سرحدوں کی وجہ سے ان کے درمیان زمنیی تنازعہ بھی پا یا جاتا ہے۔ حال ہی میں وہ لداخ میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہو چکے ہیں، جو جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
آخر کار انہوں نے اس جنگ کو ختم کرنے کےلئے بیک ڈور ڈپلومسی کا استعمال کیا ہے۔

دنیا میں جتنی بھی طاقتیں ہیں، وہ بیک ڈور ڈپلومیسی استعما ل کر تے ہیں۔ چاہے انکے تعلقات کسی بھی نہج پر کیوں نہ ہوں۔ دنیا کی سیاسی صورتحال کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو، لیکن انکے درمیان ایک بات موجود ہے جسے وہ کہتے ہیں “we use diplomatic hose’’ اس سے مراد ہے حالات کس نہج پر کیوں نہ ہوں طاقت کا سر چشمے ڈملومیسی ہاؤس ہے جہاں حالات کو قابو میں لانے کی کوشش ہوتی ہے۔ لیکن انکے درمیان تضاد اپنی جگہ موجود ہے جو آگے کس طرح ہو تا ہے، یہ ایک علیٰحدہ موضوع ہے۔ اس خطے میں پاکستان کی جگہ انڈیا اور ایران کے ساتھ سفارتی حوالے سے تعلقات کافی بہتر ہیں۔ تعلقات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں ، سفارتی ذرائع کا استعمال ضرور کیا جاتا ہے۔ جیسے کہ امریکی سابق صدربراک حسین اوباما نے ایران سے بات چیت کی تھی۔ ڈپلومیٹک ہاؤس کا استعمال ہو ا تھا۔ ایران نے پیش قدمی کی لیکن تنازعہ حل نہیں ہوا۔ اس سے یہ ہو ا کہ انڈیا نے کچھ سرمایہ لگایا، لیکن حال ہی امریکہ کی جانب سے ایران کی ایک جنرل، جنرل قاسم سلیمانی پر حملہ کرکے قتل کے بعد امریکی اور ایران کے تعلقات میں کا فی بگاڑ آیا۔ اس سے سفارتی دروازے بند ہوئے۔ اس سے ایک بات عیان ہو ئی انڈیا اور امر یکہ کے تعلقات کافی بہتر ہیں۔ اس لئے اب انڈیا اور ایران کے درمیان تعلقات جو سرد مہری کے شکار ہیں اس کی وجہ امریکی ہے۔

اس کے پیش نظر ایران نے چین کے ساتھ ایک سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ یہ کافی غور طلب ہے۔ چین جو بحرِ بلوچ آبنائے حرموز تک پہنچنے کے لئے سب کچھ کر رہا ہے انتہا ئی خطر نا ک ہے۔ اس پر انڈیا سمیت امر یکہ اور پوری دنیا کو سوچنا چاہیئے۔ اس خطے میں بلوچ جیسا ایک محکوم قوم موجود ہے جوچین اور پاکستان کی چکی میں پس رہی ہے۔ بحیثیت ہمسایہ ملک انڈیا اور بحیثیت عالمی طاقت امریکہ کو بلوچوں کی جد وجہد برائے آزادی کی مکمل مدد و حمایت کرنا چاہیئے۔ جس طرح انڈیا نے بنگلہ دیش کی آزادی میں کرداد ادا کی تھی ۔آج بلوچ قوم نے بھی اپنا فیصلہ واضح کیا ہے۔ گوریلا جنگ میں شدت لائی گئی ہے۔ اس میں ایک پالیسی سامنے آچکی ہے۔ do and die یعنی کرو یا مرو اس لئے بلوچ آزادی پسند اپنی موت کا فیصلہ پہلے سے کرتے ہیں جس کے بعد اپنے مشن کےلئے چل پڑتے ہیں ۔

بہت سے رائے یہ بھی سامنے آرہی ہے کہ امریکی صدراتی الیکشن سے قبل کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ اس وقت صور تحال ایسے نظر آرہا ہے ، چین جومعاشی طاقت کےساتھ ساتھ اپنی عسکری طا قت کو مضبوط کر رہی ہے، اس کے پیش نظر وہ افریقہ کے کہیں ممالک میں جہاں وہ قرضے کے ذریعے سے انکی زمین پر قابض ہو رہا ہے اور اپنی عسکری طاقت کو مزید تناور کررہی ہے۔ اسی طرح پاکستان کو قرضے دیکر سی پیک کے نام پر پراجیکٹ بنا رہی ہے لیکن چینی عزائم واضح نظر آرہی ہے۔ بلوچ قیادت بہت پہلےسے خدشے کا اظہار کرتے آ رہی ہے کہ چائنا پا کستان کے ساتھ مل کر بلوچوں کی سر زمین پر قابض ہو رہی ہے۔ چین گوادر کے نزدیکی علاقے بسول میں بہت بڑی نیوی بیس بنا رہی ہے۔ اس طرح بلوچوں کو بے دخل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

انور ساجدی کی اس بات پر ہم اتفاق کرتے ہیں کہ چین اب ایسٹ انڈیا کمپنی کا کردار ادا کررہی ہے۔ چین کی تو سیع پسندی کو روکنا چاہتے ہیں تواس خطے میں بحرِ بلوچ کو اپنی گرفت میں رکھیں ۔ اس کی پیش نظر امریکی اور انڈیا کو بلوچ جدوجہد کی مدد کرنی ہوگی۔ بلوچ ایک عظیم تاریخ رکھتی ہے جو حکمرانی کرنے کی اصولوں کوسمجھتی ہے اور دنیا کی امن کےلئے بلوچ وطن کی آزادی انتہائی اہمیت کے حامل رہے گا ۔

Share This Article
Leave a Comment