ایرانی عوام احتجاج جاری رکھے، مدد آرہی ہے،فوج ہم وطنوں کی جانوں کا تحفظ کرے،رضاپہلوی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی نے ایران میں جاری مظاہروں سے متعلق ایکس پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے ایرانی عوام کو مخاطب کیا ہے۔

رضا پہلوی نہ کہا کہ ’ایرانی عوام کے نام میں ایک پیغام دینا چاہتا ہوں کہ دنیا نہ صرف آپ کی آواز اور جرات کو دیکھ اور سن رہی ہے بلکہ اب اس پر ردعمل بھی دے رہی ہے۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں پتہ چلا ہے کہ امریکی صدر کا پیغام آپ تک پہنچ چکا ہے کہ ’مدد آرہی ہے آپ احتجاج جاری رکھیں۔‘

ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی نے اپنے پیغام میں مظاہرین سے کہا کہ ’اپنی جدوجہد جاری رکھیں اور حکومت کو یہ تاثر ظاہر نہ کرنے دیں کے اب حالات معمول پر آرہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’احتجاج کے دوران بہنے والے خون نے ہمارے اور حکومت کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی ہے۔ ان تمام مجرموں کے نام محفوظ رکھیں، وہ اپنے جرائم کی سزا پائیں گے۔‘

رضا پہلوی نے اپنے پیغام میں فوج کے اہلکاروں کو خصوصی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ایران کی قومی فوج ہیں، اسلامی جمہوریہ کی فوج نہیں۔ آپ پر فرض ہے کہ اپنے ہم وطنوں کی جانوں کا تحفظ کریں۔ آپ کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے جلد از جلد عوام کا ساتھ دیں۔‘

واضح رہے کہ نو جنوری کو ایران کے آخری بادشاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی نے ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری مظاہروں میں شدت لانے کے لیے ملک بھر میں عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ سڑکوں پر نکلیں، احتجاج کریں اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کی شاہ ایران کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی سے خفیہ ملاقات کا انکشاف ہوا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ویک اینڈ پر ہونے والی ملاقات میں ایران مظاہروں پر تبادلہ خیال کیاگیا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق ایران میں پُرتشدد مظاہروں کے بعد ایرانی حکومت مخالف شخصیت اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان یہ پہلی اعلیٰ سطحی ملاقات تھی۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ پہلوی سے ملنے کا ارادہ نہیں رکھتے، یہ کہتے ہوئے کہ وہ ‘ایک اچھے انسان لگتے ہیں’ لیکن یہ ‘اس وقت مناسب نہیں ہوگا’۔

رضا پہلوی کو پیدائش کے بعد سے ہی اپنے والد (شاہ ایران) کے جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ سنہ 1979 میں وہ امریکا میں لڑاکا طیارہ اُڑانے کی تربیت حاصل کر رہے تھے، جب انقلاب کے دوران اُن کے والد رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت کو ختم کر دیا گیا۔

خیال رہے کہ ایران کی حکومت نے دعویٰ کیا کہ دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ رک گیا ہے اور حالات معمول پر آنے لگے ہیں۔

Share This Article