ایران میں 2000 سے زائد مظاہرین کی ہلاکتوں کا دعویٰ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے شدت کے ساتھ جاری ہیں۔ جبکہ حکام کا دعویٰ ہے کہ دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ رک گیاہے اور ملک میں احتجاج کا سلسلہ رکنے کے بعد حالات معمول پر آنے لگے، انٹرنیشنل کالز بحال کردی گئيں تاہم انٹرنیٹ سروس ابھی بند ہے۔

ایک انسانی حقوق کی تنظیم نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سکیورٹی فورسز کے پرتشدد کریک ڈاؤن کے دوران اب تک دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چُکے ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام کو یقین دلایا ہے کہ ’احتجاج جاری رکھیں مدد آرہی ہے۔‘

امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق گزشتہ 17 روز کے دوران انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود وہ اب تک 1850 مظاہرین کی ہلاکت کی تصدیق کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ 135 حکومتی حامی افراد، نو عام شہری اور بچے بچے بھی مارے گئے ہیں۔

دوسری جانب ایران میں امریکی ورچوئل ایمبیسی نے امریکی شہریوں کے لیے سکیورٹی وارننگ جاری کرتے ہوئے انھیں فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

امریکی ورچوئل ایمبیسی کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایران میں جاری مظاہرے مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ مزید پرتشدد رخ اختیار کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں گرفتاریوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں، سڑکیں بند، عوامی ٹرانسپورٹ متاثر اور انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایرانی حکومت نے موبائل، لینڈ لائن اور قومی انٹرنیٹ نیٹ ورکس تک رسائی محدود کر دی ہے۔ فضائی کمپنیوں نے ایران آنے اور جانے والی پروازوں کو محدود یا منسوخ کر دیا ہے، جبکہ کئی ایئرلائنز نے اپنی سروس معطل کر دی ہے۔‘

امریکی حکام نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ممکن ہو تو زمینی راستے سے ترکی یا آرمینیا روانہ ہو جائیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے باعث درست اعداد و شمار تک رسائی مشکل ہے، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ایران سے حال ہی میں نکلنے والے افراد یا وہ لوگ جو سٹارلنک کے ذریعے انٹرنیٹ کی مدد سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتالوں اور مردہ خانوں میں بڑی تعداد میں زخمی اور لاشیں موجود ہیں۔

انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کی بندش کے باعث گزشتہ دنوں میں درست معلومات حاصل کرنا اور ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی تصدیق کرنا نہایت مشکل ہو گیا ہے۔ آزاد میڈیا کی غیر موجودگی میں ان خبروں کی جانچ پڑتال تقریباً ناممکن ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے 279 افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ اسرائیل اور امریکہ سے تعلق رکھنے والی ’فسادی تنظیموں‘ سے وابستہ ہیں۔

ایرانی سرکاری براڈکاسٹر آئی آر ائی بی کے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر شائع کردہ رپورٹ کے مطابق ایرانی عوامی سکیورٹی پولیس کے چیف فراجا نے 279 ’شرپسندوں‘ کی گرفتاری کا اعلان کیا۔

حالیہ ہفتوں کے مظاہروں کے دوران، ایرانی حکام نے امریکہ اور اسرائیل پر ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام عائد کیا اور مظاہرین کو ’شرپسند‘ قرار دیا۔

Share This Article