پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دعویٰ کیاہے کہ افغانستان غیر ملکی عسکریت پسندوں کا گڑھ بن چکی ہے، بی ایل اے بھی موجود ہے۔ گذشتہ برس پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے 10 بڑے واقعات میں افغان شہری شامل تھے۔
منگل کے روز صحافیوں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے گذشتہ برس میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ برس پاکستانی فوج نے عسکریت پسندوں کے خلاف کامیاب آپریشنز کیے۔
انھوں نے بتایا کہ گذشتہ برس ملک بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر 75 ہزار آپریشنز کیے گئے اور عسکریت پسندی کے 5400 واقعات ہوئے جبکہ 1235 قانون نافذ کرنے والے اہلکار اور عام شہری ہلاک ہوئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یہ بھی بتایا کہ گذشتہ برس 2597 عسکریت پسند بھی مارے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے اور تمام عسکریت پسند تنظیمیں افغانستان میں ہیں اور وہاں ان کی پرورش کی جا رہی ہے۔‘
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جعفر ایکسپریس، ایف سی ہیڈکوارٹرز بنوں، کیڈٹ کالج وانا سمیت عسکریت پسندی کے دیگر حملوں کا نام لیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ برس پاکستان میں ہونے والے عسکریت پسندی کے 10 بڑے واقعات میں افغان شہری شامل تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ افغانستان پوری دنیا کے عسکریت پسندوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’وہاں پر پوری دنیا سے عسکریت پسندوں کے لیے آماجگاہ بن چکی ہے۔ القاعدہ، داعش وہاں ہیں، بی ایل اے بھی وہیں ہے۔ شام سے بھی ڈھائی ہزار غیر ملکی عسکریت پسند افغانستان پہنچے ہیں جو وہاں لڑ رہے تھے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے عسکریت پسندی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں انہیں سازگار ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کے دوران خیبرپختونخوا حکومت کے کئی وزرا کے کئی ویڈیو کلپس بھی چلائے، جن میں صوبے کے وزیر اعلیٰ سمیت متعدد وزرا مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’آپریشن نہیں کرنا تو کیا عسکریت پسندوں کے پیروں میں بیٹھنا ہے‘۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں بیٹھ کر جھوٹا بیانیہ بنایا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’آپ کو کوئی اجازت نہیں دے سکتا کہ آپ اپنی سیاست کے لیے، اپنے سہولت کار کے لیے، پتہ نہیں کس کی سہولت کاری کے لیے، اپنے صوبے کو، اپنے علاقے کو عسکریت پسندوں کے حوالے کر دیں۔‘
پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی ایک ٹویٹ کا سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کئی غیور سیاسی جماعتیں عسکریت پسندی کے خلاف کھڑی ہوئیں۔
’انھوں نے سینوں پر گولیاں کھائیں لیکن یہ تو کہہ رہے ہیں کہ ہم مرنے کو تیار نہیں۔ ہم نہیں کھڑے ہوں گے۔ ہم ان کے ساتھ شامل ہوں گے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ’سوال یہ ہے کہ کبھی ان فتنہ الخوارج، ان عسکریت پسندوں نے ان پر حملہ کیوں نہیں کیا۔ ہر سیاسی جماعت کے عمائدین اور سیاسی رہنماؤں پر حملے ہوئے۔ چاہے وہ اے این پی ہو، جے یو آئی ہو، چاہے وہ پیپلز پارٹی ہو، چاہے وہ نون لیگ ہو۔ حملہ ہوا یا نہیں ہوا؟ ان (پی ٹی آئی) پر کیوں نہیں کرتے۔‘