نائب صدر رودریگیز نے وینزویلا کے بطور عبوری صدر حلف اٹھا لیا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

وینزویلا میں پارلیمانی اجلاس کے دوران ڈیلسی رودریگیز نے عبوری صدر کے طور پر حلف اٹھایا ہے۔ اس اجلاس کا آغاز معزول رہنما مادورو کی امریکی تحویل سے رہائی کے مطالبات سے ہوا۔ 56 سالہ رودریگیز نے کہا کہ انھیں مادورو اور ان کی اہلیہ کے مبینہ ’اغوا‘ پر شدید دُکھ ہے۔

وہ 2018 سے نائب صدر کے عہدے پر فائز رہی ہیں۔

اتوار کے روز ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر رودریگیز نے درست راستہ اختیار نہ کیا تو انھیں ’مادورو سے بھی زیادہ بڑی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔‘

کابینہ کے اجلاس کے دوران رودریگیز نے عندیہ دیا کہ ان کی حکومت امریکہ کے ساتھ محدود تعاون پر آمادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم امریکی حکومت کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون کے دائرے میں مشترکہ ترقی پر مبنی تعاون کے ایجنڈے پر ہمارے ساتھ کام کرے۔‘

حلف برداری کے بعد قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے رودریگیز نے کہا کہ انھوں نے یہ عہدہ ’درد کے ساتھ‘ سنبھالا ہے کیونکہ ملک کو ’غیر قانونی فوجی جارحیت‘ کا سامنا ہے۔

انھوں نے ملک میں امن اور معاشی و سماجی استحکام لانے کا وعدہ کیا۔

اجلاس کے دوران مادورو کے بیٹے نے بھی خطاب کیا اور اپنے والدین کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’وینزویلا واپس آئیں گے۔‘

انھوں نے رودریگیز کے لیے بھی ’غیر مشروط حمایت‘ کا اعلان کیا۔

وینزویلا کے ہزاروں شہری وفاقی قانون ساز اسمبلی کے باہر جمع ہوئے تھے تاکہ مادورو، ان کی اہلیہ اور عبوری صدر سے اظہارِ یکجہتی کر سکیں۔

Share This Article