امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینیزویلا کی صورتحال پر پریس کانفرنس کے بعد سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر ملک کو چلانے کے لیے امریکی فوجی موجودگی درکار ہوئی تو ہم زمین پر پہلے سے موجود (وینیزویلا کی) فوج سے خوفزدہ نہیں ہیں۔
‘ ان کے مطابق گزشتہ رات ’امریکی فوج نے ایک بڑا آپریشن کیا اور وہ سب اُن کی موجودگی میں ہوا۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ ملک کو درست طریقے سے چلایا جائے۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ کس طریقہ کار سے وینیزویلا کو چلائے گا تو انھوں نے کہا کہ ’ہم ابھی لوگوں کو نامزد کر رہے ہیں اور جلد آپ کو بتائیں گے کہ وہ کون ہیں۔‘
مزید سوال پر کہ وینیزویلا کو کون چلائے گا، ٹرمپ نے اپنے اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’کچھ عرصے کے لیے یہ وہ لوگ ہوں گے جو میرے پیچھے کھڑے ہیں۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور وینیزویلا کی ’شراکت داری‘ وینیزویلا کی عوام کو ’معاشی طور پر مستحکم، خودمختار اور محفوظ‘ بنائے گی۔ ان کے مطابق امریکہ میں مقیم وینیزویلا کے شہری ’انتہائی خوش‘ ہوں گے اور ’اب انھیں مزید تکالیف نہیں اُٹھانی پڑیں گی۔‘
ٹرمپ نے وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ’غیر قانونی آمر‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ امریکہ میں ’مہلک منشیات کی بھاری مقدار‘ لانے کے ذمہ دار ہیں اور ’کارٹیل دے لوس سولیس‘ کے سربراہ ہیں۔ مادورو نے ماضی میں ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’مادورو اور ان کی اہلیہ ایک جہاز کے ذریعے نیویارک جا رہے ہیں اور جلد فیصلہ کیا جائے گا کہ انھیں نیویارک یا میامی میں قانونی کارروائی کے لیے پیش کیا جائے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ وینیزویلا پر دوسرا اور ’کہیں بڑا‘ حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وینیزویلا کا تیل کا کاروبار ’ناکام‘ ہو چکا ہے اور بڑی امریکی کمپنیاں جلد وہاں جا کر انفراسٹرکچر درست کریں گی اور ’ملک کے لیے پیسہ کمانا شروع کریں گی۔‘
ان کے مطابق امریکی افواج نے ابتدا میں ’دوسری لہر‘ کے حملے کی تیاری کر رکھی تھی اور یہ سمجھا جا رہا تھا کہ اس کی ضرورت پڑے گی، لیکن گزشتہ رات کے کامیاب حملے کے بعد اب غالب امکان ہے کہ دوسرا حملہ نہ کیا جائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینیزویلا کی افواج ’ہمارے انتظار میں تھیں‘ اور کئی بحری جہاز تعینات کیے گئے تھے، لیکن امریکی فوجی کارروائی کے دوران وہ ’مکمل طور پر ناکارہ‘ ہو گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینیزویلا پر امریکی حملوں اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد تازہ صورتِ حال سے متعلق ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’اس آپریشن میں ایک بھی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی سازوسامان ضائع ہوا۔‘
ٹرمپ نے امریکی فوج کو ’ناقابلِ یقین رفتار، طاقت، درستگی اور مہارت‘ پر خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ یہ ’اعلیٰ تربیت یافتہ جنگجو‘ امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کارروائی کر رہے تھے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے سمندر کے راستے آنے والی منشیات کا 97 فیصد خاتمہ کر دیا ہے اور الزام لگایا کہ ہر منشیات بردار کشتی اوسطاً 25 ہزار افراد کی جان لیتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ زیادہ تر منشیات وینیزویلا سے آتی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ’وینیزویلا کو چلانے جا رہا ہے‘ اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ وہاں ’محفوظ، مناسب اور منصفانہ انتقالِ اقتدار‘ ممکن نہ ہو سکے۔
یہ بیان وینیزویلا کی سیاسی صورتحال اور امریکی مداخلت پر عالمی سطح پر نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے کاراکاس کے وسط میں ایک ’انتہائی محفوظ فوجی قلعے‘ پر کارروائی کرتے ہوئے وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ’انصاف کے کٹہرے‘ میں لا کھڑا کیا ہے۔
ٹرمپ نے اس کارروائی کا موازنہ ایران کے خلاف سابقہ فوجی آپریشنز سے کیا جن میں جوہری اہداف بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق ’دنیا کی کوئی قوم وہ نہیں کر سکتی جو امریکہ نے کل کر دکھایا۔‘
انھوں نے کہا کہ اس حملے میں وینیزویلا کی تمام فوجی صلاحیتیں ’بے اثر‘ کر دی گئیں اور کاراکاس میں آپریشن کے دوران امریکہ نے اپنی مہارت سے بجلی کی فراہمی بھی معطل کر دی۔
ٹرمپ کے مطابق مادورو اور ان کی اہلیہ پر نیویارک کے جنوبی ضلع میں ’مہلک منشیات پر مبنی دہشت گردی کی مہم‘ چلانے کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے اور اب دونوں ’امریکی انصاف‘ کا سامنا کریں گے۔