جبری لاپتہ نوجوان کی بازیابی کے لیے تربت میں سی پیک شاہراہ ایک بار پھر بند

ایڈمن
ایڈمن
1 Min Read

پاکستانی فورسز و خفیہ اداروں کے ہاتھوں 5 نومبر 2025 کو کوئٹہ سے جبری لاپتہ کیے گئے شہزاد ولد منیر احمد سکنہ ہیرونک ضلع کیچ کی بازیابی کے لئے آج اس کے لواحقین نے تربت میں سی پیک شاہراہ ایم-8 کو بلاک کر کے دھرنا دے دیا ہے ۔

دھرنے کے باعث ٹریفک معطل ہے اور گاڑیوں لمبی قطاریں لگ گئی ہیں جہاں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ متعدد دن گزر جانے کے باوجود شہزاد کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں جس پر مجبور ہو کر انہوں نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ نوجوان کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے یا اس کی گمشدگی سے متعلق واضح معلومات فراہم کی جائیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ تین دنوں تک سی پیک شاہراہ کو ایک ہی خانداند کے 2 خواتین اور 2 مردوں کی جبری گمشدگیوں کے خلاف بلاک کیا گیا تھا۔

جمعرات کی شام انتظامیہ کی جانب سے خواتین کی جلد بازیابی کی یقین دہانی کے بعد مذاکرات کامیاب ہوئے جس کے نتیجے میں دھرنا ختم کر دیا گیا تھا۔

Share This Article