ایچ آر سی پی اجلاس میں اظہارِ رائے پر پابندیوں کے خلاف اجتماعی مزاحمت کی اپیل

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کے زیرِ اہتمام ایک راؤنڈ ٹیبل اجلاس میں شرکاء کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، جہاں مقررین نے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا ایکٹ 2016 (پیکا) اور اس میں کی گئی ترامیم کے عام شہریوں پر منفی اثرات کو دہرایا اور ڈیجیٹل اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد پر زور دیا۔

اجلاس کی نظامت وکیل ازور شکیل نے کی۔ یہ راؤنڈ ٹیبل ایچ آر سی پی کی جاری مہم ’’پیکا کے دس سال، خاموشی کے دس سال‘‘ کے تحت منعقد ہوا۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے صدر افضل بٹ نے ایسے قوانین کی اصولی مخالفت کی ضرورت پر دوبارہ زور دیا جو بنیادی حقوق کو محدود کرتے ہیں۔ انہوں نے مناسب کنٹرول اور جبر کے درمیان فرق واضح کرنے کے لیے حکام سے براہِ راست مکالمے کی بھی تجویز دی۔

سینئر صحافی اور ایچ آر سی پی کے کونسل ممبر ناصر زیدی نے کہا کہ ریاست کا اظہارِ رائے کے حوالے سے رویہ تاریخی طور پر پابندیوں پر مبنی رہا ہے، جہاں قوانین آئینی حقوق کے تحفظ کی بجائے بیانیے کو کنٹرول کرنے کے لیے بنائے گئے۔ کئی صحافیوں نے آزادیِ صحافت کو درپیش مسائل کی نشاندہی کی۔ صحافی اکبر نوتیزئی نے کہا کہ بلوچستان میں اخبارات کے ریاستی اشتہارات پر بڑھتے انحصار کے باعث ادارتی آزادی کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ صحافی مطیع اللہ جان نے خبردار کیا کہ پیکا کے تحت ایف آئی اے کی تحقیقات میں دیگر سیکیورٹی اداروں کی شمولیت اختیارات کے ناجائز استعمال کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

اجلاس کے دوران متعدد شرکا نے ہراسانی کے ذاتی تجربات بھی بیان کیے۔ ایک صحافی نے ایف آئی اے کے اہلکاروں کی جانب سے دھمکیوں کا ذکر کیا، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مبینہ بدعنوانی اور احتساب کے فقدان کی عکاسی ہوتی ہے۔

وکلا اور صحافیوں، جن میں ثاقب بشیر اور اسد طور شامل تھے، نے پیکا سے متعلق مقدمات میں مختلف عدالتوں میں مربوط اور شواہد پر مبنی قانونی چارہ جوئی کی اہمیت پر زور دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ محض قانونی راستے کافی نہیں بلکہ شفاف عوامی بحث اور اجتماعی مزاحمت بھی ناگزیر ہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ آزادیِ صحافت کو محدود کرنے والے قوانین کے خلاف مزاحمت ضروری ہے۔

اجلاس کے اختتام پر سابق سینیٹر اور ایچ آر سی پی کے کونسل ممبر فرحت اللہ بابر نے پیکا قوانین کے تحت قانون کے معین ضابطے کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے بلا معاوضہ (Pro bono) قانونی ٹیمیں تشکیل دینے اور اس معاملے پر سیاسی جماعتوں سے منظم رابطے کی تجویز دی، جس کی راولپنڈی جرنلسٹس یونین کے صدر طارق علی نے تائید کی۔ فرحت اللہ بابر نے یہ بھی کہا کہ ان قوانین کے غلط استعمال کے ذمہ دار اہلکاروں کی اعلانیہ نشاندہی کی جانی چاہیے۔

Share This Article