تربت: لاپتہ بلوچ خواتین کی بازیابی کیلئے دھرنا دوسرے روز بھی جاری، مذاکرات ناکام

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے حب چوکی سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں 2 بلوچ خواتین حیر نسااور ہانی سمیت اسی فیملی سے تعلق رکھنے والے دو دیگر نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے خلاف ضلع کیچ کے علاقے کرکی تجابان اور ہیرونک کے مقام پر جاری احتجاجی دھرنا دوسرے روز بھی جاری ہے۔

دھرنے کے باعث تربت، کوئٹہ، پنجگور، آواران، کولواہ اور ہوشاب کو ملانے والی شاہراہ پر دونوں اطراف سے ٹریفک مکمل طور پر معطل ہے، جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں۔

لواحقین کے مطابق ان کے خاندان کے چار افراد کو جبری طور پر اٹھا کر لاپتہ کیا گیا ہے، جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ لاپتہ افراد میں 27 سالہ ہانی بنت دل جان، 17 سالہ حیرالنساء بنت عبدالواحد، 18 سالہ مجاہد ولد دل جان اور 18 سالہ فرید ولد اعجاز شامل ہیں۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ لاپتہ خواتین میں سے ایک آٹھ ماہ کی حاملہ ہے، جس پر انہیں شدید تشویش لاحق ہے۔

مظاہرین سے مذاکرات کے لیے اسسٹنٹ کمشنر تربت کی سربراہی میں ایک مذاکراتی ٹیم رات گئے دھرنا گاہ پہنچی۔ تاہم طویل بات چیت کے باوجود مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، جس کے باعث سی پیک شاہراہ پر ٹریفک دوسرے روز بھی بحال نہ ہو سکی۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کرا کے اہلِ خانہ کے سامنے پیش کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھا جائے گا۔ ٹریفک کی بندش کے باعث مسافروں اور مال بردار گاڑیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

Share This Article