بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی سے 20 دسمبر کو پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ کئے گئے 2 بلوچ خواتین سمیت 4 افرادکی بازیابی کے لئے اہلخانہ نے ضلع کیچ کے علاقے تجابان کے مقام پر سی پیک شاہراہ پر دھرنا دیکر اسے ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کردیا ہے ۔
جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنائے گئے چاروں افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے ۔جن میں فرید اعجاز، ثناء اللہ دلوش، ہانی دلوش اور گل نسا واحد شامل ہیں۔
فرید اعجاز اور ثنااللہ دلوش کو کیچ سے جبری گمشدگی کا بنایاگیا تھا جبکہ حیر نسااور ہانی کو حب چوکی سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔
سی پیک شاہراہ پر دھرنے پر بیٹھے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ حیرنسا ایک 17 سالہ فرسٹ ایئر کی طالبہ ہے جو اپنی گرمیوں کی چھٹیوں میں حب چوکی گئی ہوئی تھی جبکہ ہانی ایک آٹھ ماہ کی حاملہ عورت ہے۔
دھرنا مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے پیاروں کو بازیاب نہیں کیا جاتا دھرنا جاری رہے گا۔
یاد رہے کہ مذکورہ دونوں لاپتہ خواتین کے حوالے سے فورسز حکام نے دعویٰ کیاتھا کہ حیر نسا ایک مبینہ خودکش بمبار ہے اور ہانی اس کی سہولت کارہے، دونوں کو حب چوکی میں ایک چھاپے کے دوران حراست میں لیا گیا ہے۔
پاکستانی فورسز نے مزید دعویٰ کیاہے کہ مذکورہ افراد خودکش حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث تھیں۔