ایران میں 10 افغان شہریوں کو تشدد کے بعد ہلاک کیا گیا، طالبان حکومت

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

افغانستان میں قائم طالبان حکومت کا اپنے ایک حالیہ بیان میں کہنا ہے کہ ایران میں مارے جانے والے دس افغان باشندوں کی لاشیں وطن پہنچ گئی ہیں۔

صوبہ فراح کی طالبان انتظامیہ نے بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انھوں نے بدھ 3 دسمبر کو مارے جانے والے 11 میں سے 10 افغان شہریوں کی لاشیں وصول کر لی ہیں۔

ایران سے ملحقہ صوبہ فراح پر قائم سرحدی بندرگاہ ابو نصر کے طالبان کمانڈر خطیب فراحی نے بتایا کہ ’کل 12 افراد تھے کہ جن میں سے تین یا چار فراح کے تھے اور باقی ہرات کے رہنے والے تھے۔ ان افغان شہریوں کو ابو نصر بندرگاہ کے راستے ایران میں غیر قانونی طور پر لے جایا گیا تھا۔ انھیں ایران میں گرفتار کیا گیا اور بے رحمی اور ظالمانہ طریقے سے مار دیا گیا۔ تاہم ان 12 افراد میں سے ایک زخمی ہوئے مگر اُن کی جان بچ گئی مگر دیگر 11 افغان شہری ہلاک ہو گئے۔‘

خطیب فراحی کا کہنا ہے کہ ’یہ لوگ دراصل کچھ عرصہ پہلے ہلاک ہوئے تھے، لیکن ان کے بقول، ایران نے انھیں اپنی تحویل میں رکھا ہوا تھا اور ان کے ایک زندہ بچ جانے والے زخمی ساتھی کی مدد سے پہلے اس کے خاندان اور بعد ازاں طالبان حکومت کو ان کے بارے میں اطلاع ملی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اب دس ہلاک ہونے والے افغان شہریوں کی میتیں وطن واپس لائی گئی ہیں۔ ایک زخمی اور ہلاک ہونے والے ایک شخص کی واپسی تا حال مُمکن نہیں ہو پائی ہے۔‘

دوسری جانب ایرانی حکام نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اس دوران افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ’20 دن پہلے پیش آیا تھا۔‘وزارت کے ترجمان عبدالمتین قانع نے بی بی سی کو بھیجے گئے ایک آڈیو پیغام میں کہا کہ ’یہ واقعہ دراصل 20 دن سے بھی پہلے پیش آیا تھا اور لاشیں ایران کی سڑکوں پر پڑی ہوئی تھیں۔ اسلامی امارت کے حکام کی کوششوں سے ہلاک ہونے والے افغان شہریوں کی لاشیں وطن واپس لائی گئیں اور ان کے خاندانوں کے حوالے کر دی گئیں۔‘

Share This Article