بھارت: نریندر مودی آج رام مندر کا سنگِ بنیاد رکھیں گے

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی آج ملک کے شمالی شہر ایودھیا میں ایک نئے مندر کا سنگِ بنیاد رکھیں گے۔

یہ مندر جہاں تعمیر کیا جا رہا ہے یہ مقام ہندوو¿ں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی کا باعث رہا ہے اور دونوں فریق اس کی ملکیت کے دعویدار ہیں۔ سنہ 1992 میں ہندوو¿ں نے یہاں پر 16ویں صدی میں تعمیر ہونے والی بابری مسجد کو مسمار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقام پر ان کی مقدس ترین ہستی رام کا مندر تھا۔

گذشتہ سال ملک کی سپریم کورٹ نے یہ مقام ہندوو¿ں کو دے کر کئی دہائیوں پرانی قانونی لڑائی کو ختم کر دیا تھا۔ عدالت نے مسلمانوں کو شہر میں ایک اور مقام پر مسجد تعمیر کرنے کے لیے زمین دی۔

ایودھیا میں رام مندر اور بابری مسجد کا تنازع ایک صدی سے زیادہ پرانا ہے اور یہ انڈیا کی عدالتی تاریخ کے مشکل ترین کیسز میں سے ایک تھا۔

نریندر مودی مندر کے سب سے اندرون حصے میں ایک علامتی چاندی کی اینٹ رکھیں گے جو کہ آئندہ بننے والے مندر کاسب سے مقدس حصہ ہوگا۔ شہر بھر کے لوگ اس لمحے کو بڑی بڑی سکرینوں پر دیکھ سکیں گے اور اس تقریب کی انڈین میڈیا پر بھی کافی کوریج متوقع ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک بھر سے لوگ چاندی اور سونا، سکوں اور اینٹوں کی شکل میں مندر کی تعمیر کے لیے بھیج رہے ہیں۔ پولیس کو کہا گیا ہے کہ وہ ان قیمتی عطیات کی حفاظت کریں۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق گذشتہ سالوں میں ہندو افراد سے تقریباً دو لاکھ سونے کی اینٹیں جمع کی گئی ہیں جن پر ’شری رام‘ لکھا گیا ہے اور یہ اینٹیں مندر کی بنیاد بنانے میں استعمال ہوں گی۔

مجوزہ مندر پر کام کرنے والے چیف آرکیٹیک چندرا کانٹ سومپورہ نے مقامی نیوز ویب سائٹ دی پرنٹ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ مندر نگارہ سٹائل، جو کہ شمالی انڈیا میں مندروں کی تعمیر کے لیے مقبول سٹائل ہے، میں تعمیر کیا جائے گا۔

مندر کا اندرون حصہ، جہاں مرکزی بت رکھا جائے گا، اوکٹاگونل شکل یعنی آٹھ دیواروں والا ہوگا۔ مندر میں ایک بڑا سٹرکچر بھی بنایا جائے گا جو کہ تین منزلہ ہوگا جس میں 366 ستون اور 5 گنبد ہوں گے۔

چندراکانٹ سومپورہ کا کہنا ہے کہ مندر کی تعمیر میں ملوث افراد کی یاد میں ایک علامتی دیوار بھی بنائی جائے گی۔

اس تنازع کی بنیاد 16ویں صدی کی ایک مسجد تھی جسے 1992 میں ہندو¿وں نے گرا دیا تھا جس کے بعد مذہبی فسادات میں تقریباً 2000 افراد مارے گئے تھے۔

بہت سے ہندوو¿ں کا ماننا ہے کہ بابری مسجد ایک ایسے مقام پر بنائی گئی تھی جہاں پہلے ایک ہندو مندر تھا جس پر مسلمانوں نے انڈیا قتح کرنے کے بعد ایک مسجد بنا دی تھی۔

مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے دسمبر 1949 تک اس مسجد میں نماز ادا کی جب کچھ ہندوو¿ں نے وہاں رام کے بت لا کر رکھ دیے اور ان کی پوجا شروع کر دی۔

اس کے بعد کئی سالوں تک یہ معاملہ عدالت میں زیرِ بحث رہا کہ کس مذہب کے لوگوں کے پاس اس مقام پر عبادت کا حق ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ آرکیلوجیکل سروے آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس مقام پر بابری مسجد کے نیچے ایک ایسی عمارت کے شواہد ملے ہیں جو کہ اسلام سے منسلک نہیں تھی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ شواہد کی نظر میں متنازع زمین ہندوو¿ں کو مندر کی تعمیر کے لیے دی جاتی ہے اور مسلمانوں کو کسی اور مقام پر مسجد کی تعمیر کے لیے جگہ فراہم کی جائے۔

عدالت نے وفاقی حکومت سے کہا کہ وہ ایک ٹرسٹ بنائیں جو کہ مندر کی تعمیر کی ذمہ داری لے۔

تاہم عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ بابری مسجد کو مسمار کرنا قانون کی بالادستی کے خلاف تھا۔

Share This Article
Leave a Comment