پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما و سینیٹر دوستین ڈومکی نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں غلط طرز حکمرانی ، بد امنی، اقربا پروری ، کرپشن، بیڈ گورننس کے سبب آئندہ چند روز میں سرفراز بگٹی کو وزارت اعلیٰ کے منصب سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے اور نئے وزیرا علیٰ کیلئے پیپلزپارٹی میں مشاورت کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے دوستین ڈومکی نے کہا ہے کہ موجودہ وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت، وزیر اعظم پاکستان، وفاقی حکومت اور مقتدر حلقوں کو بھی سخت مایوس کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے حالات کے تناظر میں افواج پاکستان جان کی قربانیاں دیکر امن کی بحالی میں اپنا کردار ادا کررہی ہے لیکن موجودہ حکومت کی بیڈ گورننس کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں پر پانی پھیر دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئے وزیر اعلیٰ کا امیدوار کون ہوگا یہ پاکستان پیپلزپارٹی کا اندرونی معاملہ ہے کہ وہ ان ہاؤس تبدیلی لاکر کس امیدوار کو وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کیلئے لاتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر باز محمد کھیتران کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی تبدیلی کی کوئی بات پارٹی میں زیر غور نہیں، یہ پاکستان پیپلز پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کا اختیار سینیٹر ڈومکی سمیت کسی کو نہیں ہے، اگر دوسرا وزیر اعلیٰ آیا بھی تو پاکستان پیپلز پارٹی کا ہوگا۔
اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر وزیر پارلیمانی لیڈر صادق عمرانی نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیوں کو بے بنیاد من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اتحادی جماعتوںکا وزیراعلیٰ کو مکمل اعتماد حاصل ہے اور وزیراعلیٰ اپنی مدت پوری کریں گئے۔
اپنی جاری کر دہ بیان میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کے حقوق کے حصول اور بلوچستان کے مسائل کے حل کو یقینی بنانے کیلئے اپنی قلیدی کردار ادا کیا ہے یہی وجہ ہے کہ حکومت اور وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق آئے روز بے بنیاد اور من گھڑت قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کو تمام اتحادی جماعتوں کا مکمل اعتماد اور حمایت حاصل ہے ایسی بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی خبریں چلا کر سستی شہرت حاصل کر نے کی کوشش کی جاتی ہے۔