افغانستان کا پاکستان پر حملہ : اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد کارروائی ختم کردی، افغان وزیر دفاع

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

افغان طالبان حکومت کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ افغان افواج کی جانب سے سرحد پار پاکستان میں کی جانے والی کارروائیاں اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد اب روک دی گئی ہیں۔

محمد یعقوب مجاہد کی جانب سے سنیچر کی شب جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے افغانستان کی مسلح افواج نے ڈیورنڈ لائن پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کی پوسٹوں پر کامیاب جوابی کارروائیاں کی ہیں۔

انھوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’یہ کارروائیاں افغانستان کی سرزمین کی بار بار خلاف ورزیوں اور پاکستانی فوج کی جانب سے افغان زمین پر چند روز قبل ہونے والے فضائی حملوں کے جواب میں کی گئیں۔

افغان وزیرِ دفاع کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’یہ کارروائیاں سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد روک دی گئی ہیں۔ تاہم اگر دوسری جانب(پاکستان) سے دوبارہ افغانستان کی سرزمین پر حملے یا سرحد کی کی خلاف ورزی کی گئی تو افغان مسلح افواج اس کے دفاع اور جوابی کارروائی کے لیے تیار ہیں اور ایسے کسی بھی اقدام کا سخت جواب دیا جائے گا۔‘

واضح رہے کہ سنیچر اور اتوار کی شب پاکستان اور افغانستان میں طالبان کی افواج کے مابین سرحد پر متعدد مقامات پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

طالبان کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین پر پاکستانی فوج کی حالیہ کارروائیوں کے ردعمل میں سرحد پار پاکستانی فوج پر بڑے پیمانے پر جوابی حملے کیے گئے ہیں۔

پاکستان میں عسکری ذرائع نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے افغان حملوں کا بھرپور جواب دینے اور متعدد افغان چوکیاں تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔

خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے کرم میں رات دیر تک پاکستان اور افغانستان کے مابین ہونے والی جھڑپوں کے بعد اب علاقے میں خاموشی ہے۔

ضلع کرم میں سول ہسپتال پاڑہ چنار میں ایک شخص کی لاش اور ایک زخمی کو لایا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس حملے میں ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت شاہد کے نام سے ہوئی ہے۔

ہسپتال میں موجود ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ ان کی اطلاع کے مطابق رات کے وقت پاکستان، افغانستان سرحد پر جھڑپوں سے دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایک کو زخمی حالت میں پاڑہ چنار ہسپتال لایا گیا تھا۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاڑہ چنار کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر میر حسن جان نے بتایا کہ وہ اور ان کا عملہ ساری رات ڈیوٹی پر موجود تھے ۔ کرم کے ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی تھی اور تمام عملے کو ہسپتال حاضر ہونے کا کہا گیا تھا۔

ادھر ضلع خیبر میں طورخم کے مقام پر جھڑپ یا حملے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے لیکن طورخم کے مقام پر سرحد آج صبح سویرے بند کر دی گئی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق کہ طالبان فورسز نے شام کو ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا اور اس کے بعد فریقین کے درمیان شدید لڑائی شروع ہوگئی۔

پاکستان میں عسکری ذرائع نے کہا ہے کہ افغان افواج نے انگور اڈہ، باجوڑ، کرم، دیر، چترال کے علاوہ بلوچستان میں بارام چاہ کے مقامات پر بِلا اشتعال فائرنگ کی۔

عسکری ذرائع کے مطابق اس فائرنگ کا پاکستانی فوج کی جانب سے ’بھرپور اور شدید جواب‘ دیا گیا اور کارروائی ابھی جاری ہے۔

عسکری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کارروائی کے دوران متعدد افغان چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

پاکستان کے ضلع کرم میں سرحد سے چند کلومیٹر دور موجود ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان کو بتایا کہ دونوں جانب سے بھاری اسلحے سے فائرنگ کی جا رہی ہے جس میں اب تک دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

مقامی افراد کے مطابق افغانستان سے ضلع کرم پر تین اطراف سے حملے کیے گئے ہیں۔

کرم کے مرکزی شہر پاڑہ چنار میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاڑہ چنار سے ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ ان کے پاس ایک زخمی لایا گیا تھا جن کا علاج جاری ہے اور اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

بلوچستان کے افغانستان سے متصل ضلع چاغی کے سرحدی علاقے برابچہ میں بھی پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

رخشان ڈویژن میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کے محمد کاظم کو بتایا کہ افغان فورسز کی جانب سے سینیچر اور اتوار کی شب پاکستانی پوزیشنز پر فائرنگ کی گئی۔

اہلکار نے بتایا کہ فائرنگ سے تاحال کسی نقصان کی اطلاع نہیں۔

برابچہ ضلع چاغی کے ہیڈکوارٹر سے اندازاً پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر شمال میں واقع ہے جبکہ چاغی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے مغرب میں افغانستان اور ایران سے متصل آخری سرحدی ضلع ہے۔

شمال میں اس کی سرحدیں افغانستان کے دو صوبوں ہلمند اور نیمروز سے لگتی ہیں۔

بلوچستان کے افغانستان کے ساتھ طویل سرحد لگتی ہے جس پر سات اضلاع واقع ہیں جن میں ضلع چاغی کے۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ افغان فوج کی پاکستان میں شہری آبادی پر فائرنگ بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی افواج نے فوری طور پر موثر جواب دے کر ثابت کیا ہے کہ کسی بھی اشتعال انگیزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

‏وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ “افغانستان آگ و خون کا جو کھیل کھیل رہا ہے اس کے تانے بانے ہمارے ازلی دشمن سے ملتے ہیں۔”

Share This Article