انڈیا میں مرکزی حکومت کے زیرِ انتظام علاقے لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں چار افراد ہلاک اور 30 پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 59 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔
ان مظاہروں کو 1989 کے بعد لداخ میں ہونے والے سب سے پرتشدد مظاہرے کہا جا رہا ہے۔
بدھ کے روز نوجوانوں کے گروپوں کی جانب سے لداخ کے دارالحکومت لیہہ کو بند کرنے کی کال کے جواب میں سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے جس کے بعد کچھ مظاہرین نے توڑ پھوڑ کی۔ اس کے بعد مظاہرین نے مرکز میں برسرِ اقتداربھارتی جنتا پارٹی کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا جبکہ کئی گاڑیوں کو بھی نذرِ آتش کر دیا۔
سرکاری اہلکاروں نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے شہر بھر میں بڑی تعداد میں تعینات پولیس اور نیم فوجی دستوں نے آنسو گیس کے شیلز استعمال کیے۔
کم از کم چھ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
یہ احتجاج وفاق کے زیر انتظام علاقے میں چل رہی ایک بڑی تحریک کا حصہ ہیں جو زمین اور زرعی فیصلوں پر خود مختاری کے لیے انڈین حکومت سے لداخ کو ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
انڈیا کی مرکزی حکومت نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ لوگ لداخ کے لوگوں کے ساتھ مکمل ریاست کا درجہ دینے اور چھٹے شیڈول کی توسیع پر ہونے والے مذاکرات کی پیشرفت سے خوش نہیں اور اس میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔