چین کے شہرچنگدو میں امریکی قونصل خانہ بندکردیا گیا

ایڈمن
ایڈمن
12 Min Read

سیون ٹی ٹو ( 72)گھنٹے کی ڈیڈ لائن مکمل ہونے کے بعد چین کے شہر چنگدو میں امریکی قونصل خانے کے امریکی سفارتکار عمارت سے نکل گئے ہیں۔

چین نے امریکہ کی جانب سے ہیوسٹن میں چینی قونصل خانہ بند کرنے کے اقدام کا جواب دیتے ہوئے اپنے جنوب مغربی شہر چنگدو میں موجود امریکی قونصل خانے کو بند کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

سوموار کی ڈیڈلائن سے پہلے، عملے کو عمارت سے نکلتے ہوئے دیکھا گیا، امریکی قونصل خانے کے باہر لگی تختی اتار لی گئی اور امریکی جھنڈے کو سرنگوں کر دیا گیا۔

چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ چینی عملے نے مقررہ مدت کے بعد عمارت میں گھس کر کنٹرول سنبھال لیا۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’قونصل خانہ گذشتہ 35 سال سے مغربی چین، بشمول تبت، کے عوام کے ساتھ ہمارے تعلقات کا مرکز تھا۔‘

’ہمیں چین کی کمیونسٹ پارٹی کے فیصلے پر مایوسی ہوئی ہے اور ہم اس اہم خطے میں چین میں دوسری جگہوں سے لوگوں تک رسائی جاری رکھیں گے۔‘

جیسے ہی امریکی قونصل خانہ بند ہوا، مقامی رہائیشی وہاں جمع ہو گئے، جن میں سے اکثر چینی جھنڈے لہرا رہے تھے اور سیلفیاں لے رہے تھے۔

گذشتہ بدھ کو امریکہ نے ہیوسٹن میں چینی قونصل خانہ بند کرنے کا حکم دیا تھا، اور الزام لگایا تھا کہ یہ جاسوسی اور چوری کا گڑھ بن گیا ہے۔

یہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے دوران سامنے آنے والی تازہ ترین پیش رفت ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکہ کے لیے ایک ’ضروری ردِ عمل‘ تھا کیونکہ امریکہ نے چین کے ہیوسٹن میں موجود قونصل خانے کو بند کر دیا تھا۔ اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ امریکہ نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ چین ’انٹیلیکچوئل پراپرٹی چرا‘ رہا تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ چند ماہ سے امریکہ اور چین کے درمیان چند اہم مسائل پر تناو¿ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

چین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے قونصل خانہ بند کرنے کا اقدام ’امریکہ کے نامعقول اقدامات کے سامنے جائز اور ضروری ردِ عمل تھا۔‘

امریکہ اور چین کے درمیان حالیہ صورتحال ایسی ہے جو چین ’نہیں دیکھنا چاہتا اور امریکہ پر اس کی تمام ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔‘

ہمارے نمائندوں کے مطابق چنگدو میں امریکی قونصل خانہ سنہ 1985 میں قائم ہوا تھا اور یہاں 200 سے زیادہ اہلکار کام کرتے ہیں اور اس کی تبت سے قربت کے باعث اس کی خاصی سٹریٹیجک اہمیت تھی۔

امریکہ نے چار ایسے چینی باشندوں پر ویزا فراڈ کا الزام عائد کیا ہے جنھوں نے مبینہ طور پر چینی فوج کا رکن ہونے کے حوالے سے جھوٹ بولا تھا۔

ان میں سے تین باشندوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے جبکہ ایف بی آئی چوتھے شخص کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے جن کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ سان فرانسسکو میں چینی قونصل خانے میں موجود ہیں۔

ایف بی آئی کے اہلکاروں نے امریکہ کے 25 مختلف شہروں میں ایسے افراد کے انٹرویو کیے ہیں جن کی چین کی فوج کے ساتھ ’غیر اعلانیہ وابستگی‘ ہے۔

سرکاری وکلا کا کہنا ہے کہ یہ چین کا امریکہ میں سائنسدان بھیجنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔

امریکہ کے محکمہ انصاف کے اٹارنی جان سی ڈیمیرز نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی کے اراکین نے تحقیق کی غرض سے ویزے حاصل کیے اور چینی فوج کے ساتھ اپنی وابستگی کو چھپایا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ چین کی کمیونسٹ جماعت کے منصوبے کا حصہ ہے تاکہ ہمارے روشن خیال معاشرے سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور ہمارے تعلیمی اداروں کا استحصال کیا جا سکے۔‘

یہ گرفتاریاں امریکہ کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہیں جس میں اس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ چینی سائنسدان نے سان فرانسسکو قونصل خانے میں پناہ لے لی ہے۔

خیال رہے کہ رواں ہفتے امریکی حکام کی جانب سے ہیوسٹن میں چینی قونصل خانے بند کیا جا چکا ہے۔

جمعرات کو گرفتاریوں کے اعلان سے قبل چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وینگ وینبن نے امریکہ کے الزامات کو ’بدنیتی پر مبنی بہتان‘ قرار دیا اور کہا کہ چین ’اس حوالے سے ردِ عمل دے گا اور اپنے جائز حقوق کی حفاظت کرے گا۔‘

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چین کے ساتھ حالیہ مہینوں میں واضح تناو¿ دیکھا گیا ہے جس کی وجوہات میں تجارت، کورونا وائرس کی عالمی وبا کا پھیلاو¿ اور نیا ہانگ کانگ سکیورٹی قانون شامل ہیں۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے ان افراد پر الزام عائد ہونے کے چند گھنٹوں بعد بیان میں کہا ہے کہ چین کی جانب سے ‘نئے ظلم’ ہے۔

اس حوالے سے کیلی فورنیا میں رچرڈ نکسن صدارتی لائبریری میں سیکریٹری پومپیو نے ’تمام اقوام کے سربراہان‘ سے چین کے خلاف کھڑے ہونے کا کہا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی سے آزادی واپس لینا ’ہمارا اولین مشن ہے۔‘

جن چار چینی باشندوں پر ویزا فراڈ کا الزام لگایا گیا ہے ان وینگ شن، سونگ شین، ڑاو¿ کے کے اور تانگ یوان شامل ہیں۔ یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تانگ سین فرانسسکو قونصل خانے میں موجود ہیں۔

ان تمام چینی باشندوں نے مبینہ طور پر پیپلز لبریشن آرمی سے وابستگی کے حوالے سے جھوٹ بولا ہے اور کہا ہے کہ یا تو وہ کبھی آرمی میں بھرتی نہیں ہوئے یا اب اس کے لیے کام نہیں کرتے۔

وینگ ین کو سات جون کو کسٹمز اور سرحدوں کے تحفظ پر معمور ایجنسی کے اہلکار نے لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

محکمہ انصاف کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق انھوں نے یہ انکشاف کیا کہ وہ اب بھی پی ایل سے وابستہ ہیں اور ملٹری یونیورسٹی لیب میں کام کرتے ہیں حالانکہ سنہ 2016 میں انھوں نے اپنے ویزے پر یہ لکھوایا تھا کو وہ فوج سے فارغ التحصیل ہو چکے ہیں۔

سونگ شین اور یاو¿ کے کے کو 18 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔

سرکاری وکلا نے الزام عائد کیا ہے کہ سونگ نے دعویٰ کر رکھا تھا کہ وہ نیورولوجسٹ کی حیثیت سے فوج کا حصہ تھے تاہم اب وہ فوج چھوڑ چکے ہیں تاہم حقیقت میں وہ اب بھی چین میں پی ایل اے ایئر فورس کے ہسپتال کے ساتھ وابستہ تھے۔ یاو¿ کے کا دعویٰ تھا کہ وہ بھی کبھی ملٹری کا حصہ نہیں رہے تاہم وہ پی ایل اے کی تحقیق کے اعلیٰ ادارے کے رکن تھے۔

خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تانگ مبینہ طور پر پی ایل اے ایئرفورس کا حصہ ہیں۔ اس اہلکار نے ان کی ایسی تصاویر دیکھیں جن میں وہ فوجی لباس میں ملبوس تھیں اور ایسے شواہد بھی جن سے مبینہ طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ ایئرفورس میڈیکل یونیورسٹی کے لیے کام کرتی ہیں۔

انھوں نے بھی مبینہ طور پر اپنے ویزا پر یہی لکھا ہے کہ وہ کبھی بھی فوج سے وابستہ نہیں رہیں۔

سان فرانسسکو میں قائم ایک وفاقی عدالت میں سرکاری اہلکاروں کی طرف سے جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق چینی سائنسدان جوان تینگ کیلیفورنیا کی یونیورسٹی میں بائیولوجی کی محقق تھیں۔

ان دستاویزت کے مطابق گذشتہ ماہ وفاتی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی سے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کا فوج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدالت میں پیش کی گئی دستاویزت میں کہا گیا کہ بعد میں تحقیقات میں ان کی ایسی تصاویر سامنے آئیں جن وہ فوجی وردی پہنے ہوئے ہیں اور ان کے گھر کی تلاشی سے پتا چلا کہ ان کا تعلق چین کی پیپلز لبریشن آرمی سے ہے۔

ایف بی آئی کے انٹرویو کے بعد تنگ جون کی 20 تاریخ کو چینی قونصل خانے چلی گئیں جہاں ایف بی آئی کو ان تک رسائی ممکن نہیں تھی۔

سرکاری وکلائ کا کہا ہے کہ تینگ واحد چینی سائنسدان نہیں ہیں بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ چینی فوج کے اس پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت وہ مختلف بہانوں سے چینی سائنسدانوں کو امریکہ بھیجتی ہے۔

اس دستاویز میں دو دیگر مقدمات کا حوالہ دیا گیا جن میں چینی سائنسدانوں کو کیلیفورنیہ میں فوج سے اپنے تعلق کے بارے میں جھوٹ بولنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

ہیوسٹن کے قونصلیٹ کا معاملہ اس وقت اٹھایا گیا جب اس کی عمارت کے دلان میں کئی ڈبوں میں آگ لگی دیکھی گئی۔

ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے ان کوڑے دانوں میں کچھ لوگ کاغذت جل رہے ہیں۔

ہنگامی عملے کو طلب کیا گیا لیکن ہیوسٹن پولیس کے مطابق انھیں عمارت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

امریکی انتظامیہ نے بدھ کے روز چین کو قونصل خانے کی عمارت 72 گھنٹوں میں خالی کرنے کا وقت دیا تھا۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ‘وہ یہ بالکل واضح کر رہے ہیں کہ چین کی کیمونسٹ پارٹی کو کیا رویہ رکھنا چاہیے۔ اور جب وہ ایسا نہیں کرتے تو ہم ایسے اقدامات اٹھائیں گے کہ جن سے امریکی مفادات، امریکی سلامتی، امریکی معیشت اور نوکریوں کا تحفظ کیا جا سکے۔’

امریکہ میں چین کے پانچ قونصلیٹ ہیں اور واشنگٹن میں سفارت خانہ ان کے علاوہ ہے۔ چین نے امریکہ کے اس فیصلے کو سیاسی اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment