افغان طالبان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بگرام ایئربیس حوالے کرنے سے متعلق نئے بیان پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دوحہ معاہدے کے تحت امریکہ افغانستان کے خلاف طاقت کا استعمال یا اسے دھمکی نہیں دے سکتا اور یہ کہ امریکہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا پابند ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر افغانستان کے بگرام ایئر بیس کو دوبارہ امریکہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں لکھا ہے کہ ’اگر افغانستان نے بگرام ایئر بیس کو اسے تعمیر کرنے والوں یعنی امریکہ کو واپس نہیں کیا تو برا ہو گا!!!‘
ایکس پر جاری بیان میں افغان طالبان نے کہا ہے کہ ’اسلامی اصولوں کے مطابق اور اپنی متوازن اور معیشت پر مبنی خارجہ پالیسی پر مبنی امارت اسلامیہ افغانستان باہمی اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تمام ریاستوں کے ساتھ تعمیری تعلقات کی خواہاں ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’تمام دوطرفہ مذاکرات میں امریکہ کو مسلسل آگاہ کیا گیا ہے کہ امارت اسلامیہ کے لیے افغانستان کی آزادی اور علاقائی سالمیت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔‘
’یاد رہے کہ دوحہ معاہدے کے تحت امریکہ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ افغانستان کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کا استعمال یا دھمکی نہیں دے گا اور نہ ہی اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے وعدوں کے ساتھ وفادار رہیں۔‘
طالبان نے کہا کہ ’اسی مناسبت سے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ماضی کے ناکام طریقوں کو دہرانے کے بجائے حقیقت پسندی اور عقلیت پسندی کی پالیسی اپنائی جانی چاہیے۔‘