اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب ہوا ہے، یو این تحقیقاتی کمیشن رپورٹ

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی ہے۔

تحقیقاتی کمیشن کی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے پاس واضح شواہد ہیں کہ 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل بین الاقوامی قانون میں بیان کردہ نسل کشی کے پانچ میں سے چار اقدامات کا مرتکب ہوا ہے۔ اسرائیل کو نسل کشی کے جن اقدامات کا مرتکب پایا گیا ہے ان میں کسی مخصوص گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد کا قتل، انھیں شدید جسمانی اور ذہنی نقصان پہنچانا، جان بوجھ کر کسی گروپ کو تباہ کرنے کے لیے حالات پیدا کرنا، اور بچوں کی پیدائش کو روکنا شامل ہے۔

رپورٹ میں نسل کشی کے ارادے کو ثابت کرنے لیے اسرائیلی رہنماؤں کے بیانات اور اسرائیلی افواج کے طرز عمل کا حوالہ دیا گیا ہے۔

حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 64,905 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

غزہ کی زیادہ تر آبادی متعدد بار بے گھر ہوچکی ہے جبکہ اندازے کے مطابق، 90 فیصد سے زیادہ گھر یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا انھیں نقصان پہنچا ہے۔ صحت کی سہولیات، پانی، صفائی اور حفظان صحت کے نظام تباہ ہو چکے ہیں اور اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ فوڈ سکیورٹی ماہرین اعلان کر چکے ہیں کہ غزہ شہر قحط کا شکار ہے۔

اسرائیل کی وزارت خارجہ اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’مسخ شدہ اور جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔

اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان نے کمیشن میں شامل تینوں ماہرین پر الزام لگایا ہے کہ وہ ’حماس کی پراکسی‘ کے طور پر کام کر رہے ہیں اور انھوں نے رپورٹ کے لیے ’مکمل طور پر حماس کے جھوٹ‘ پر انحصار کیا ہے۔

منگل کے روز شائع ہونے والی اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کے پاس واضح شواہد ہیں کہ 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل بین الاقوامی قانون میں بیان کردہ نسل کشی کے پانچ میں سے چار اقدامات کا مرتکب ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے 2021 میں مقبوضہ فلسطینی علاقے میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔

اس کمیشن کے تین رکنی پینل کی سربراہی جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی سابق سربراہ نوی پلے کر رہی ہیں۔ وہ اس سے قبل روانڈا میں ہونے والی نسل کشی پر بنے بین الاقوامی ٹریبونل کی صدر رہ چکی ہیں۔

کمیشن کی تازہ ترین رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام اور اسرائیلی فورسز نے 1948 کے نسل کشی کنونشن کے تحت غزہ میں نسل کشی کے پانچ اقدامات میں سے چار کا ارتکاب کیا ہے۔

مخصوص گروہ کے افراد کا قتل:

ایسی چیزیں جنھیں بین الاقوامی قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہے ان پر حملہ کرکے گروہ کے ارکان کو قتل کیا؛ شہریوں اور دیگر افراد جنھیں تحفظ حاصل ہے انھیں نشانہ بنایا؛ اور جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کیے جو موت کا سبب بنے۔

مخصوص گروہ کے افراد کو شدید جسمانی اور ذہنی نقصان پہنچانا:

شہریوں اور ایسی اشیا جنھیں تحفظ حاصل ہے ان پر براہ راست حملے کر کے مخصوص گروپ کے ارکان کو شدید جسمانی یا ذہنی نقصان پہنچایا؛ قیدیوں کے ساتھ شدید ناروا سلوک؛ جبری نقل مکانی؛ اور ماحولیاتی تباہی کا ارتکاب کیا۔

جان بوجھ کر کسی گروپ کو تباہ کرنے کے لیے حالات پیدا کرنا:

ضروری انفراسٹرکچر اور زمین کو تباہ کر کے؛ تباہی اور طبی خدمات تک رسائی سے روک کر؛ جبری نقل مکانی؛ ضروری امداد، پانی، بجلی اور ایندھن کو فلسطینیوں تک پہنچنے سے روک کر؛ تولیدی تشدد؛ اور بچوں کو متاثر کرنے والے مخصوص حالات پیدا کر کے ایسے حالات پیدا کیے گئے جس سے فلسطینیوں کی تباہی کو یقینی بنایا جا سکے۔

بچوں کی پیدائش میں خلل

دسمبر 2023 میں غزہ کے سب سے بڑے فرٹیلٹی کلینک پر حملہ کر کے بچوں کی پیدائش میں خلل ڈالا گیا۔ اس حملے میں مبینہ طور پر تقریباً 4,000 ایمبریو اور 1,000 سپرم کے نمونے اور غیر زرخیز انڈوں کو تباہ ہوئے تھے۔

جینیوا کنونشن کے تحت کسی کو بھی عمل کو نسل کشی قرار دینے کے لیے یہ ثابت کرنا بھی ضروری ہے کہ مجرم نے یہ سارے اقدامات نسل کشی کے ارادے سے کیے ہیں۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ اس نے اس مقصد کے لیے اسرائیلی رہنماؤں کے بیانات کا جائزہ لیا۔ کمیشن کا لزام ہے کہ اسرائیل کے صدر آئزک ہرزوگ، وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ نے نسل کشی کے لیے اکسایا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز کے طرز عمل سے جو واحد معقول نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ ان کا ارادہ نسل کشی کا ہی تھا۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ اس طرز عمل میں بھاری گولہ بارود کا استعمال کرتے ہوئے فلسطینیوں کی غیر معمولی تعداد کو جان بوجھ کر قتل کرنا اور انھیں شدید نقصان پہنچانا شامل ہے۔ مذہبی، ثقافتی اور تعلیمی مقامات پر منظم اور بڑے پیمانے پر حملے؛ اور غزہ کا محاصرہ کر کے اس کی آبادی کو بھوکا مارنا شامل ہے۔

Share This Article