کراچی پریس کلب کے باہر لاپتہ بلوچ طالب علم زاہد بلوچ کی بازیابی کے لیے قائم احتجاجی کیمپ عبدالحمید بلوچ کی طبیعت ناساز ہونے کے باعث منگل کے روز بھی موخر کردیا گیا۔
عبدالحمید بلوچ، جو زاہد علی کے والد ہیں، پہلے ہی ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہیں اور گزشتہ اتوار کے روز اچانک طبیعت بگڑنے پر انہیں مقامی کلینک منتقل کیا گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے جس کی وجہ سے مسلسل تین دنوں سے احتجاجی کیمپ منعقد نہیں ہوسکا۔
اہلخانہ کے مطابق عبدالحمید بلوچ اس وقت مقامی اسپتال میں زیر علاج ہیں، تاہم وہ اپنے بیٹے کی بازیابی کی جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے کراچی پریس کلب کے باہر یہ احتجاجی کیمپ مسلسل جاری تھا، جسے عبدالحمید بلوچ اپنی صحت کی خرابی کے باوجود سنبھال رہے تھے۔
زاہد علی کی والدہ نے کہا کہ انہوں نے انصاف کے ہر دروازے پر دستک دی مگر شنوائی نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں مقدمہ دائر ہے اور مقامی تھانے میں ایف آئی آر بھی درج ہے، لیکن ریاستی ادارے اب تک زاہد علی کی گرفتاری تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ انہوں نے کہا: "اگر میرے بیٹے پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے، خفیہ حراست اور ماورائے آئین حربے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔”
زاہد علی کی والدہ نے مزید کہا کہ ان کا بیٹا بے گناہ ہے اور پورے گھر کی کفالت کر رہا تھا، لیکن اس کی جبری گمشدگی نے پورے خاندان کو معاشی و نفسیاتی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی کے مختلف علاقوں سے متعدد بلوچ نوجوان جبری طور پر لاپتہ کیے جا چکے ہیں۔ ان میں ماری پور اور لال بکھر ہاکس بے کے رہائشی نوجوان شیراز بلوچ، سیلان بلوچ، سرفراز بلوچ، رمیز بلوچ، رحیم بخش بلوچ اور رحمان بلوچ شامل ہیں۔ کارکنوں نے کہا کہ ان جبری گمشدگیوں پر حکومتی اداروں اور عدلیہ کی خاموشی افسوسناک ہے، جس سے متاثرہ خاندانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ نوجوانوں کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے اور جبری گمشدگی جیسے غیر قانونی اقدامات کا سلسلہ بند کیا جائے۔