جھاؤ اور سوراب میں پاکستانی فوج پر حملوں میں 6 اہلکار ہلاک کئے، بی ایل ایف

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ ( بی ایل ایف ) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں ضلع آواران کے علاقے جھاؤ اور سوراب میں پاکستانی فوج پر حملوں میں 6 اہلکاروں کی ہلاکت اور شہرک اسپتال کے نگرانی کیمروں کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول لی۔

ترجمان نے کہا کہ یکم ستمبر کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے جھاؤ میں دو مختلف مقامات پر قابض پاکستانی فوج کی چوکیوں پر بیک وقت حملہ کرکے ان کو نشانہ بنایا، جس سے دشمن فورسز کا ایک اہلکار ہلاک دو زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے حملے میں جھاؤ ڈولیجی میں موسیٰ کمبی میں قابض فوجی چوکی کو شام 4:00 بجے کے قریب بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا، اسی وقت سرمچاروں نے ڈولیجی میں دشمن فوج کے مرکزی کیمپ پر بھی دو مختلف اطراف سے حملہ کیا اور یہ کارروائی بیس منٹ تک جاری رہا۔ حسب معمول دشمن فوج نے مارٹر اور آر پی جی کے متعدد گولے سول آبادی پر داغے۔ تاہم سرمچار کاروائی کے بعد بحفاظت وہاں سے نکل گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اکیس اگست کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے صبح پانچ بجے کے قریب سوراب کے علاقہ نغاڑ میں کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر قابض پاکستانی آرمی کے کانوائے میں شامل ایک ٹرک گاڑی کو آئی ای ڈی بم حملے میں نشانہ بنایا۔ حملے کے نتیجے میں گاڑی میں سوار پانچ اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ جبکہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

بیان میں کہا گیا کہ اٹھائیس اگست کو رات 11:00بجے کے قریب بی ایل ایف کے سرمچاروں نے تربت کے علاقہ شہرک ہسپتال میں نصب نگرانی کے کیمروں کو نشانہ بنایا جو کہ دشمن فورسز نے عوام کی خلوت اور نجی زندگی میں رازداری کے حقوق کو پامال کرتے ہوئے نصب کیے تھے۔ سرمچاروں نے ان کیمروں کو اس بنیاد پر نشانہ بنایا تاکہ دیہی اور پہاڑی علاقوں سے آنے والے سادہ لوح مریضوں کی پرائیویسی اور وقار کی خلاف ورزی نہ ہو۔ ایسی حرکتوں اور طرز عمل کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ہم قابض ریاستی اداروں کو میڈیا کے ذریعے متنبہ کرتے ہیں کہ لوگوں کی رازداری اور نجی نقل و حمل کے حقوق کا احترام کیا کریں ورنہ اس طرح کے غیر مہذب حرکات کے نتائج بھگتنے کیلئے تیار رہیں۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان لبریشن فرنٹ جھاؤ اور سوراب میں قابض پاکستانی فوج، اور شہرک اسپتال میں نصب سرکاری کیمروں کو نشانہ بنانے اور نقصان پہنچانے کی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔

Share This Article