امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ کو اُن کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کو ایران پر امریکی حملوں کے اثرات کا جائزہ لینے والی ایک رپورٹ پر وائٹ ہاؤس کی تنقید کے چند ہفتوں بعد ہی برطرف کر دیا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل جیفری کروز اب امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (ڈی آئی اے) کے سربراہ کے طور پر کام نہیں کریں گے۔
پینٹاگون نے دو دیگر اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو بھی کام سے روک دیا ہے۔ محکمہ دفاع نے اس برطرفی پر فوری طور پر کوئی وضاحت پیش نہیں کی ہے۔ بی بی سی نے اس پر تبصرے کے لیے پینٹاگون سے رابطہ کیا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل جیفری کروز سنہ 2024 کے اوائل سے امریکی دفاعی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ تھے۔
یاد رہے کہ جون میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈی آئی اے کی جانب سے سامنے آنے والی اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ ایران پر حملوں نے اس کے جوہری پروگرام کو محض چند ماہ تک ہی پیچھے دھکیلا ہے۔
دوسری جانب اس سے قبل ٹرمپ نے ایران میں جوہری مقامات کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ تاریخ کے کامیاب ترین فوجی حملوں میں سے ایک کو میڈیا بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس وقت نیٹو سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہیگستھ نے کہا تھا کہ یہ رپورٹ ’محدود انٹیلیجنس‘ پر بنائی گئی تھی اور ایف بی آئی اس لیک کی تحقیقات کر رہی تھی۔
یاد رہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ایسے متعدد عہدیداروں کو ہٹانے کا عمل سامنے آیا ہے جن کے تجزیوں میں صدر کے ساتھ اختلاف دیکھا گیا ہے۔
ملازمتوں میں اضافہ سست پڑنے کی ایک رپورٹ سامنے آنے پر جولائی میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھوں نے اپنی ٹیم کو حکم دیا ہے کہ وہ کمشنر برائے محنت شماریات ایریکا میک اینٹرفر کو فوری طور پر برطرف کر دیں۔