بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں پریس کلب کے سامنے گذشتہ 9 دنوں سے پاکستانی فورسز ایف سی کے ہاتھوں قتل ہونے والے احسان شاہ کی والدہ اپنے بیٹے کے لئے انصاف اور قاتلوں کی گرفتاری کے لئے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں ۔
گذشتہ روز انہوں نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہنا تھا کہ اسے ریاستی فورسز اور انتظامیہ کی جانب سے شدید ہراسانی کا سامنا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے انہیں گرفتاری کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
احسان شاہ کی والدہ کا کہنا ہے کہ آج دھرنے کے دوران مقامی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) نے آکر ان کے پوسٹرز پھاڑ دیے اور احتجاج ختم کرنے کی دھمکی دی۔
ان کے مطابق ڈی ایس پی نے کہا کہ اگر دھرنا جاری رکھا گیا تو انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔
واضح رہے کہ احسان شاہ قتل کیس میں ایف آئی آر کے اندراج کے دوران بھی لواحقین کو شدید دباؤ کا سامنا رہا، پولیس نے فورسز اہلکاروں کے دباؤ میں آکر مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا تھا تاہم عدالتی حکم پر نامعلوم اہلکاروں کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا۔
احسان شاہ کی والدہ نے بلوچ سیاسی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ناانصافی کے خلاف ان کی آواز بنیں اور کوئٹہ میں جاری دھرنے میں شامل ہو کر انصاف کے حصول میں ان کا ساتھ دیں۔
یاد رہے کہ سترہ سالہ احسان شاہ کو رواں سال 3 جون کو کوئٹہ کے علاقے غنجہ ڈوری میں ایف سی اہلکاروں نے فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک جبکہ ان کا ساتھی شعیب زخمی ہوا تھا۔
لواحقین کا الزام ہے کہ مستونگ ایف سی کے ایک افسر نے احسان شاہ کو علاقے میں مخبری سے انکار کرنے پر فائرنگ کرکے قتل کیا ہے۔
واقعے کا مقدمہ (ایف آئی آر) فورسز اہلکاروں کے خلاف درج کیا گیا تاہم کئی ماہ گزر جانے کے باوجود کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔