بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں، نسل کشی اور بی وائی سی قیادت کی ماورائے آئین گرفتاری کے خلاف کوئٹہ ، کراچی اور اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے جاری ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے رہنماؤں کی رہائی اور بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے مطالبے کے لیے بلوچ لاپتہ افراد و زیرحراست رہنماؤں کے خاندانوں کا دھرنا پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں 25ویں روز بھی جاری ہے۔
انتہائی گرمی، پولیس کی رکاوٹوں اور سایہ دار کیمپ لگانے کی اجازت نہ ملنے کے باوجود، مظاہرین جن میں بزرگ خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اپنے مطالبات کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں۔ اسلام آباد پریس کلب جانے والا راستہ مسلسل بند ہے جبکہ حکام شرکاء کے مطالبات پورے کرنے کے بجائے انہیں ہراساں کرنے اور خوفزدہ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
مظاہرین نے کہا کہ وہ رہنماؤں کی رہائی اور بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خاتمے تک احتجاج جاری رکھیں گے۔
اسی طرح لیاری کے 25 سالہ طالبعلم زاہد علی بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ پانچویں روز بھی جاری رہا۔
اہلِ خانہ کے مطابق، 17 جولائی کو سیکیورٹی اہلکاروں نے زاہد کو رکشے سمیت حراست میں لیا، تاہم 24 روز گزرنے کے باوجود کوئی اطلاع نہیں ملی۔ زاہد کراچی یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کا طالبعلم اور جز وقتی رکشہ ڈرائیور تھا۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ زاہد کو عدالت میں پیش یا فوری رہا کیا جائے۔
احتجاجی کیمپ میں زاہد کے والدین، دیگر قریبی رشتہ دار، انسانی حقوق کے کارکنان، طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں جن پر “زاہد کو بازیاب کرو”، “طلبہ کو لاپتہ کرنا بند کرو” اور “عدالت میں پیش کرو یا رہا کرو” جیسے نعرے درج ہیں۔
جبکہ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احسان شاہ کی والدہ اپنے بیٹے کے قاتل فورسز اہلکاروں کی عدم گرفتاری کے خلاف دھرنا دیے بیٹھی ہیں۔
احسان شاہ کی والدہ گذشتہ پانچ روز سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے دھرنے پر موجود ہیں، ان کا مطالبہ ہے کہ بیٹے کے قتل میں ملوث اہلکاروں کو گرفتار کرکے سزا دی جائے، تاہم ایف آئی آر ہونے کے باوجود تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے۔