گوادر: بھائی کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاج پر بہن نوکری سے فارغ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے سی پیک مرکز شہر گوادر سے تعلق رکھنے والی رخسانہ دوست کو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے انتقامی کارروائی کے تحت اپنے لاپتہ بھائی کی جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھانے پر نوکری سے فارغ کردیا ہے۔

رخسانہ دوست کا کہنا ہے کہ انہیں بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھانے اور اپنے لاپتہ بھائی کی بازیابی کے لیے احتجاج کرنے کی پاداش میںہراساں کیا جارہا ہے۔

رخسانہ دوست جو گوادر کے ایک مقامی اسکول دی اوئیسس اسکول میں بطور معلمہ فرائض انجام دے رہی تھیں کو آج اسکول انتظامیہ کی جانب سے ملازمت سے فارغ کیے جانے کا پیغام موصول ہوا۔

اُن کے بقول انھیں صرف اس لیے اسکول سے نکالا گیا کہ وہ اپنے جبری لاپتہ بھائی عظیم دوست کی بازیابی کے لیے احتجاج کر رہی ہیں۔

اس سے قبل رخسانہ بلوچ کے مطابق ان کو گوادر پولیس نے تھانے طلب کیا جہاں انہیں پانچ گھنٹے تک حبسِ بے جا میں رکھا گیا، اس دوران ان سے احتجاجی ریلیوں میں شرکت اور مظاہروں کے بارے میں سوالات کیے گئے اور انہیں ہراساں کیا گیا۔

واضح رہے کہ رخسانہ دوست عظیم دوست بلوچ کی ہمشیرہ ہیں جنہیں پاکستانی فورسز نے 3 جولائی 2015 کو گوادر سے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا، وہ گزشتہ کئی سالوں سے اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے گوادر سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں میں شرکت کرتی رہی ہیں۔

رخسانہ نے اس حوالے سے بتایا کہ میں ذہنی طور پر پہلے سے تیار تھی مجھے معلوم تھا کہ ایک نہ ایک دن مجھے اسکول سے نکال دیا جائے گا کیونکہ اسکول کو بھی دھمکیوں کا سامنا تھا اور آج اسکول انتظامیہ نے مجھے پیغام بھیجا کہ آپ کو اسکول سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

رخسانہ دوست کہتی ہے میں اپنی جدوجہد جاری رکھوں گی اور اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے آواز بلند کرتی رہوں گی۔

Share This Article