تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کا فوری اور غیر مشروط جنگ بندی پر اتفاق

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا نے اپنی سرحد پر پانچ روز سے جاری لڑائی کے بعد ’فوری اور غیر مشروط جنگ بندی‘ پر اتفاق کر لیا ہے۔

اب تک ہونے والی لڑائی میں کم از کم 33 افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہوگئے ہیں۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے اپنے ہم منصبوں کے ہمراہ نصف شب جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ کشیدگی میں کمی اور امن و سلامتی کی بحالی کی جانب ایک اہم پہلا قدم ہے۔

خیال رہے کہ تھائی لینڈ نے ابتدائی طور پر ثالثی کی پیش کش کو مسترد کر دیا تھا لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد اس پر رضامندی ظاہر کر دی تھی کہ محصولات سے متعلق مذاکرات اس وقت تک آگے نہیں بڑھیں گے جب تک ‘جنگ’ بندی نہیں ہو جاتی۔

ایک صدی پرانے سرحدی تنازعے پر کشیدگی مئی میں اس وقت بڑھ گئی تھی جب کمبوڈیا کا ایک فوجی جھڑپ میں ہلاک ہو گیا تھا۔

حالیہ دنوں میں تھائی لینڈ نے زمینی راستے سے کمبوڈیا جانے والے شہریوں اور سیاحوں پر پابندی عائد کردی جبکہ کمبوڈیا نے تھائی لینڈ سے پھلوں، بجلی اور انٹرنیٹ خدمات سمیت کچھ درآمدات پر پابندی عائد کررکھی ہے۔

تھائی لینڈ نے کمبوڈیا کے ساتھ اپنی کچھ سرحدی گزرگاہوں کو بند کر رکھا ہے، کمبوڈیا کے سفیر کو ملک بدر کر دیا اور اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔

پیر کوالالمپور میں جاری امن مذاکرات کے دوران بھی دونوں ممالک میں گولے اور راکٹ گرنے کا سلسلہ جاری رہا۔

کمبوڈیا جمعے سے ہی جنگ بندی پر زور دے رہا ہے کیونکہ تھائی لینڈ کی فوج نے اس کی مسلح افواج کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ تھائی لینڈ کے قائم مقام وزیراعظم فومتھم ویچایاچائی نے مختصر خطاب کرتے ہوئے جنگ بندی کا احترام کرنے کا وعدہ کیا۔

ان دونوں ممالک میں تنازع کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ درحقیقت تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان تنازع ایک صدی سے بھی زیادہ پرانا ہے اور اس کی ابتدا اُس وقت ہوئی جب کمبوڈیا پر فرانسیسی قبضے کے بعد ان دونوں ممالک کی سرحدوں کا تعین کیا گیا۔

تاہم یہ تنازع شدت اس وقت اختیار کر گیا جب سنہ 2008 میں کمبوڈیا نے سرحد پر واقع ایک متنازع علاقے میں قائم 11ویں صدی کے ایک مندر پر اپنے حق کا دعویٰ کیا۔ 11ویں صدی کا یہ مندر یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔ یہ ایک ایسا اقدام تھا جس پر تھائی لینڈ کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔

اس کے بعد آنے والے برسوں کے دوران اسی مندر کے معاملے پر دونوں ممالک میں جھڑپیں ہوتی رہی ہیں جن میں دونوں اطراف کے فوجی اور عام شہری مارے گئے ہیں۔

تازہ ترین کشیدگی کی ابتدا مئی 2025 میں اُس جھڑپ کے نتیجے میں ہوئی جس میں کمبوڈیا کا ایک فوجی مارا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ان دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔

مئی 2025 کے بعد سے اِن دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر سرحدی پابندیاں عائد کی ہیں۔ کمبوڈیا نے تھائی لینڈ سے پھلوں اور سبزیوں کی درآمدات پر پابندی لگا دی اور بجلی اور انٹرنیٹ جیسی خدمات کی درآمد بند کر دی۔

اسی کشیدگی کے پیش نظر دونوں ممالک نے اپنی اپنی سرحدوں پر فوجی موجودگی میں بھی اضافہ کیا ہے۔

Share This Article