رواں ہفتے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں یو این نے عالمی کپ کے میزبان ملک قطر میں مختلف تعمیراتی مقامات پرکام کرنے والی لیبر کے خلاف نسلی امتیاز پرمبنی برتاﺅ کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
نسلی امور کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر کے ذریعہ تیار کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ورلڈ کپ کی تنصیبات پر کام کرنے والے مزدوروں کو کم اجرت دی جاتی ہے ، وہ انتہائی امتیازی سلوک اور استحصال کا شکار ہیں۔
فیفا کی جانب سے قطریں ورلڈ کپ کی میزبانی کا حق دینے کے تقریبا 10 سال کے بعد دوحا میں مزدوروں کو درپیش مشکلات اور ان کے حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان مشکلات میں ان کی اجرت کی ادائیگی نہ ہونا ، غیر محفوظ حالات میں کام، ، پولیس کے ذریعہ نسلی امتیاز،عالمی اداروں کے نمائندوں کو لیبر تک رسائی سے انکار اور دیگر مسائل شامل ہیں۔
پچھلے مہینے ایک برطانوی اخبار میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں قطری کمپنیوں کے ورلڈ کپ کی تنصیبات،عمارتوںاور کھیل کے میدانوں میں کام کرنے والے مزدوروں سے برتے جانے والے ناروا سلوک پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔
"ڈیلی میل” میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں قطر میں اسپورٹس ہاو¿س اسٹیڈیم کی تعمیر میں کام کرنے والے کارکنوں سے برتاﺅ کے طریقوں پرتنقید کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ اس جگہ کام کرنے والے مزدوروں کو سات ماہ سے معاوضہ نہیں دیا گیا۔ حالانکہ قطر ایک دولت مند ملک ہے جو اپنی دولت بیرون ملک اپنے حامیوں میں بے دریغ طریقے سے بانٹتا ہے۔