بلوچ یکجہتی کمیٹی نے حب چوکی میں گرفتار خواتین کی رہائی کی تصدیق کی ہے ۔لیکن ان کا کہنا تھا کہ ایچ آر سی پی کے رکن عبداللہ بلوچ تاحال زیر حراست ہیں۔
یاد رہے کہ بی وائی سی نے 5 جولائی کو ذیشانزہیر کے قتل کے خلاف حب میں ایک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا۔ پولیس نے ریلی پر دھاوا بولتے ہوئے فائرنگ کی اور متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا تھا۔
بی وائی سی کے مطابق جب مظاہرین نے لسبیلہ پریس کلب کے سامنے احتجاج کی کوشش کی تو حب پولیس نے انہیں وہاں سے روک دیا جس کے بعد مظاہرین نے مین روڈ پر ریلی نکالی۔
اسی دوران پولیس نے فائرنگ کی اور ریلی میں شریک بی وائی سی کے کارکنوں اور لاپتہ افراد کے لواحقین کو گرفتار کیا۔
تنظیم کے مطابق پولیس نے اس کارروائی کے دوران جبری لاپتہ شبیر بلوچ کی کمسن بہن، خضدار سے لاپتہ سلمان بلوچ کی بہن سمیت مزید دو خواتین کارکنان اور پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کے عبداللہ بلوچ کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا۔
بی وائی سی کا کہنا تھا کہ پولیس نے گرفتار کارکنوں کے موبائل فون ضبط کر لیے اور انہیں وکلاء سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ بعد ازاں مظاہرین کو گڈانی جیل منتقل کردیا گیا۔
تنظیم نے گرفتار خواتین کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے ایچ آر سی پی کے رکن عبداللہ بلوچ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔