بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں گرینڈ الائنس کے احتجاج پر پولیس کی لاٹھی چارج و تشدد کے خلاف گرینڈ الائنس نے کل بلوچستان بھر میں دھرنوں، د فاتر اور کلاسسز کے بائیکاٹ کااعلان کیا ہے ۔
اس سلسلے میں فپواسا بلوچستان چیپٹر و اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، جنرل سیکرٹری پروفیسر فریدخان اچکزئی، نائب صدر ڈاکٹر شبیر احمد شاہوانی، فنانس سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر صاحبزادہ باز محمد کاکڑ، جوائنٹ سیکرٹری میڈم زہرا ملغانی و ایگزیکٹیو ممبران ارباب رضا کاسی، میڈم فرحانہ عمر مگسی، ڈاکٹر محب اللہ کاکڑ، ڈاکٹر گل محمد بلوچ اور پروفیسر مسعود مندوخیل نے اپنے بیان میں بلوچستان گرینڈالائنس کے قائدین کی غیرقانونی گرفتاریوں و اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے صدر کے گھر پر غیرقانونی چھاپہ اور بلوچستان حکومت اور انکی جانب سے وزرا پر مشتمل کمیٹی ممبران کی وعدہ خلافی اور دھوکہ دہی کے خلاف بلوچستان گرینڈ الائنس کی کال پر بروز بدھ کو بلوچستان بھر کی مین شاہراوں پر دھرنے دینے اور دفاتر اور کلاسوں کے بائیکاٹ کی مکمل حمایت کرتے ہوئے جامعہ بلوچستان سمیت بیوٹمز و دیگر جامعات کے اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین سے اپیل کیا کہ وہ بروز بدھ کو مکمل بائیکاٹ اور ساڈھے گیارہ بجے یونیورسٹی آف بلوچستان کے سامنے سریاب روڈ پر احتجاجی دھرنا دیں۔
بیان میں بلوچستان حکومت کی وزرا راحیلہ حمید درانی اور بخت محمد کاکڑ پر مشتمل کمیٹی نے بلوچستان گرینڈالائنس کی قائدین سے مذاکرات کے بعد وعدہ کرکے اعلان کیا کہ گرینڈالائنس کے مطالبات خاص کر بلوچستان کی تمام جامعات کے لئے حکومت کی جانب سے 11 ارب روپے مختص کئے جائینگے جو وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 3 ارب روپے سے الگ ھونگے اور گذشتہ دنوں بلوچستان حکومت کی جانب سے یونیورسٹیوں کے منظور شدہ الاونسز کو ختم کرنے کی نوٹیفکیشن کے خاتمے کیلئے اعلی سطحی کمیٹی میں پیش کیا جائے گا لیکن وزیر خزانہ نے اپنے بجٹ تقریر میں گرینڈالائنس الائنس سے مذاکرات کی نتیجے میں تسلیم شدہ پوائنٹس خاص کر بلوچستان کی سرکاری جامعات کےلئے صرف 8 ارب روپے رکھ کر اپنی وعدوں سے منحرف ھوئے جو دراصل دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام اور آفیسرا کو 24 دن گزرنے کے باوجود مئی کی تنخواہوں اور پنشنز سے تاحال محروم رکھا گیا۔