ایران میں 3 جوہری تنصیبات پر امریکانے حملہ کردیا ہے ۔ایرانی حکام اس کی تصدیق کردی ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران میں فردو پر حملے کے بعد ایک ایرانی عہدیدار کی جانب سے سرکاری طور پر اس حملے کی تصدیق کی گئی ہے۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، قم صوبے کے کرائسس مینجمنٹ کے ترجمان مرتضی حیدری کا کہنا ہے کہ ’فردو نیوکلیئر سائٹ کے علاقے کے ایک حصے پر فضائی حملہ کیا گیا۔‘
یہ وہی نیوکلیئر سائٹ ہے کہ جس کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل نیٹ ورک سوشل ٹروتھ پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’فردو تباہ ہو گیا ہے۔‘
دوسری جانب اصفہان کے سکیورٹی ڈپٹی گورنر اکبر صالحی نے حال ہی میں کہا ہے کہ ’نطنز اور اصفہان میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ہم نے اصفہان اور نطنز کے جوہری مقامات کے قریب حملے دیکھے۔‘
ٹرمپ کی جانب سے جن تینوں فضائی حملوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کی تصدیق ایرانی حکام نے بھی کر دی ہے۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے ڈپٹی پولیٹیکل ڈائریکٹر حسن عابدینی ابھی سرکاری ٹی وی پر براہ راست نظر آئے اُن کا کہنا تھا کہ ’ایران نے کچھ عرصہ قبل ان تین جوہری تنصیبات کو خالی کرا لیا تھا۔ جنھیں سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب امریکہ کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔‘
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر ٹرمپ کی بات سچ بھی ہے تو ایران کو ’کوئی بڑا دھچکا نہیں لگا کیونکہ مواد پہلے ہی ان مقامات سے نکال لیا گیا تھا۔‘
حسن عابدینی کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے تین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے کہ جس میں اُن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ امریکی فوج نے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر حملے مکمل کر لیے ہیں جن میں فورڈو، نطنز اور اصفہان شامل ہیں۔
ایران میں 3 جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران کو اب ہر صورت میں امن کا آپشن چننا ہو گا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو مستقبل میں مزید حملے کیے جائیں گے جو اس سے بہت زیادہ بڑے لیکن بہت آسان ہوں گے۔‘
ٹرمپ نے اپنے مختصر خطاب کے دوران تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے ایران میں فردو، نطنز اور اصفہان میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’سب نے ان (تنصیبات) کے نام سالوں سے سن رکھے تھے جب وہ (ایران) یہ بدترین تنصیبات بنا رہا تھا۔ آج رات میں دنیا کو یہ بتا سکتا ہوں کہ ان حملوں میں ہمیں بہترین کامیابی ملی۔‘
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ’اب یا تو امن قائم ہو گا یا ایران کے لیے ایک ایسا سانحہ ہو گا جو گذشتہ آٹھ دنوں سے بہت بڑا ہو گا۔ یاد رکھیں کہ ابھی بہت سارے اہداف ایسے ہیں جنھیں نشانہ نہیں بنایا گیا۔ آج رات ہم نے سب سے مشکل ہدف کو نشانہ بنایا۔ لیکن اگر امن قائم نہیں ہوتا تو ہم دیگر اہداف کو درستگی، رفتار اور کامیابی سے نشانہ بنائیں گے۔‘
ٹرمپ نے قوم سے خطاب جو چار منٹ تک جاری رہا میں یہ بھی کہا کہ ایران کے سابق فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی جانب سے ہزاروں افراد کو ہلاک کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے بہت عرصہ پہلے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ میں ایسا نہیں ہونے دوں گا، ایسا مزید نہیں چل سکتا۔‘
انھوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ایک ’ٹیم‘ کی طرح کام کیا اور ’اسرائیل کے لیے بدترین خطرے‘ کو مٹا دیا۔
ٹرمپ نے قوم سے خطاب سے قبل سوشل میڈیا پر اپنے ایک پوسٹ میں حملے کی تصدیق کرے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے ایران کے تین جوہری تنصیبات پر بہت کامیاب حملہ مکمل کر لیا ہے جن میں فردو، نطنز اور اصفہان شامل ہیں۔ تمام طیارے اب ایران کی فضائی حدود سے باہر ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ فردو پر ’بموں کا پورا پے لوڈ‘ گرایا گیا تھا اور تمام طیارے امریکہ واپس جا رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ بی ٹو بمبار طیارے ایران پر امریکی حملوں میں ملوث تھے۔