امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے گفتگو میں ایران کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا اور دونوں رہنماؤں کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ ’ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ پوتن نے عندیہ دیا کہ وہ ایران سے متعلق ان مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں اور اس معاملے کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے لکھا ’میری رائے میں ایران اس نہایت اہم معاملے پر فیصلہ دینے میں غیر ضروری تاخیر کر رہا ہے۔‘’ہمیں جلد از جلد ایک واضح اور حتمی جواب چاہیے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے یوکرین کے حالیہ ڈرون حملوں اور ایران کے معاملے پر ’اچھی گفتگو‘ ہوئی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق یوکرین کی جانب سے روس کے اندر واقع فضائی اڈوں پر بڑے ڈرون حملوں کے بعد پوتن نے انھیں بتایا کہ روس کو ان حملوں کا ’جواب دینا پڑے گا۔‘
ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی یہ فون کال فوری امن کی ضمانت نہیں دیتی۔
یوکرین کی جانب سے روس کے جوہری بمباروں کو نشانے بنانے کے بعد بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلا رابطہ ہے۔
ٹرمپ نے لکھا:’پوتن نے مجھ سے بہت سختی سے کہا کہ وہ فضائی اڈوں پر یوکرین کے حالیہ حملوں کا جواب ضرور دیں گے۔‘
گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے ایک بیان میں اشارہ دیا تھا کہ اگر دو ہفتوں کے اندر پوتن نے امن عمل میں پیش رفت نہ کی تو امریکہ روس کے خلاف اپنے رویے میں تبدیلی لا سکتا ہے۔
یہ بیان ٹرمپ کے ان مسلسل تنقیدی تبصروں کی کڑی تھا جو وہ حالیہ ہفتوں کے دوران (جب روس نے یوکرین پر ڈرون اور میزائل حملے تیز کیے) روس کے خلاف دیتے آ رہے ہیں۔ اس سے پہلے وہ پوتن کو ’مکمل طور پر پاگل‘ قرار دے چکے ہیں اور خبردار کر چکے ہیں کہ وہ ’آگ سے کھیل رہے ہیں۔‘
تاہم بدھ کے روز جاری کردہ سوشل میڈیا پوسٹ میں ٹرمپ نے نہ تو کسی ڈیڈلائن کا ذکر کیا نہ ہی اپنے سابقہ بیانات کا۔
یہ پوسٹ ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب چند روز قبل استنبول میں یوکرین اور روس کے درمیان دوسرے دور کے براہ راست امن مذاکرات بغیر کسی بڑی پیش رفت کے ختم ہوئے۔ تاہم دونوں فریق قیدیوں کے تبادلے پر متفق ہوئے۔
یوکرینی مذاکرات کاروں کے مطابق روس نے ’غیر مشروط جنگ بندی‘ کی تجویز مسترد کر دی جو کیئو اور امریکہ سمیت اس کے مغربی اتحادیوں کا اہم مطالبہ تھا۔
روس کی ٹیم نے دعویٰ کیا کہ وہ یوکرین کے ’کچھ علاقوں‘ میں کئی روزہ جنگ بندی پر آمادہ ہیں، تاہم انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں دیں۔