خطے کا نیو آرڈر اور بی ایل اے کی پالیسی | ذوالفقار علی زلفی

ایڈمن
ایڈمن
9 Min Read

پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے تناظر میں بلوچ لبریشن آرمی کا پالیسی بیان کئی اعتبار سے قابلِ غور ہے ـ بلوچ لبریشن آرمی ہماری قومی تحریک کا ایک اہم حصہ ہے ـ مگر بہرحال اپنی تمام تر عسکری قوت اور پنجابی استعمار کے خلاف مہلک حملوں کے باوجود وہ تحریک کا محض ایک جُز ہے کُل نہیں ـ جُز ہونے کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے اس کی پالیسیوں اور حکمت عملی کے کم اثرات مرتب ہوں گے، یقینی طور پر بی ایل اے کا ہر قدم بلوچستان اور اس کے عوام پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے ـ ۔

بلوچ لبریشن آرمی نے پاکستان کو عہد شکن ، پشت پر وار کرنے والا اور دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا دشمن قرار دے کر بھارت کو خبردار کیا ہے کہ وہ پاکستان کی امن پسندی کے جھانسے میں نہ آئے ـ پاکستان کی حد تک بات درست ہے مگر کیا بھارت کو انہی اوصاف سے پاک قرار دیا جاسکتا ہے؟ ـ میرے نزدیک بھارت کا سیاسی اشرافیہ بھی اتنا ہی ظالم اور جابر ہے جتنا پنجابی استعمار ـ فرق محض اتنا ہے پنجابی استعمار عالمی سامراجی قوتوں کی طفیلی ہے جب کہ بھارت خود کو ایک عالمی طاقت اور عالمی سامراج کے برابر کا اتحادی تصور کرتا ہے ـ ۔

بی ایل اے نے آگے چل کر بھارت سے سفارتی، دفاعی اور سیاسی مدد کی اپیل کی ہے تاں کہ وہ بقول اس کے اس دہشت گرد ریاست کا خاتمہ کرکے ایک ترقی پسند آزاد بلوچستان کا قیام عمل میں لاسکے ـ ۔

بھارتی ریاست پر قابض سیاسی اشرافیہ ہندو توا کے سیاسی نظریے کو لے کر نیو لبرل معاشی نظام کا پاس دار ہے ـ وہ برما سے لے کر ایران تک کے خطے کو مفروضہ ہندو (تہذیبی نہیں مذہبی) خطہ قرار دے کر مسلم اور مسیحیوں کو ہندو تہذیب سے خارج تصور کرتا ہے، اس نظریے کے تحت وہ پورے خطے پر ہندو بالادستی کو اپنا غیرمشروط حق گردانتا ہے ـ اپنی اس پالیسی کے تحت اس نے نہ صرف ریاست کے اندر اقلیتوں کی زندگی عذاب بنا رکھی ہے بلکہ اپنے کم زور ہمسایوں سے بھی اس کا رویہ تحکمانہ ہے ـ۔

بھارتی حکمران طبقے کی نیو لبرل پالیسیوں نے محنت کشوں، آدی واسیوں ، کسانوں اور حاشیوں میں رہنے والے قبائلیوں کو نان شبینے کا محتاج کردیا ہے۔ ـ پسماندہ خطوں میں رہنے والے مظلوم اقوام و طبقات کا استحصال بلا روک ٹوک جاری ہے۔ ـ لبرل معاشی پالیسی کے بعد بھارتی سرمایہ داروں نے ریاست پر اپنی اجارہ داری قائم کرکے نہرو کے بھارت کو دفن کردیا ہے۔ ـ یہ بھارت عالمی سرمایہ داریت کا خون آشام اتحادی بن چکا ہے جس کے فٹ پرنٹ دنیا بھر میں ملتے ہیں ۔ـ دنیا میں بھوک کی سب سے بڑی فیکٹری ہندوستان میں قائم ہے جس کا انتظام بھارتی سرمایہ داروں کے ہاتھ ہے۔ ـ اسی طرح کشمیر سمیت شمالی مشرقی ریاستوں کی حق خودارادیت کو بھی وہ عین اسی طرح کچلتا آرہا ہے جس طرح پنجابی استعمار بلوچ کے لئے جلاد بنا ہوا ہے۔
ـ
ایک ہندو توادی عوام دشمن ریاست سے یہ امید رکھنا کہ وہ ایک ترقی پسند بلوچستان کی تعمیر میں مدد کرے گا، خام خیالی ہے ـ بنگال کی تاریخ ہمارے سامنے ہے جہاں بھارت نے پنجابی استعمار کی جگہ بنگالی بورژوازی کو حکمران بنا کر دہائیوں تک اپنے استعماری مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا ـ بی ایل اے کی جانب سے ترقی پسند بلوچستان کی اصطلاح بھی وضاحت طلب ہے ـ۔

بھارت سے دفاعی تعاون کا مطالبہ بھی حقیقت پسندانہ نہیں لگتا ـ۔ بھارت لاکھ خود کو ایک عالمی طاقت قرار دے مگر پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی نے اس کی فوجی طاقت کی قلعی کھول دی ہے۔ ـ چین نے بذریعہِ پاکستان بھارت کی فضائی برتری کو خاک میں ملا دیا ،ہے ـ عین ممکن ہے حالیہ کشیدگی کے بعد بھارت کی موجودہ عسکری پوزیشن کے تناظر میں چین، امریکا اور بھارت کسی ایسے معاہدے پر پہنچ جائیں جس میں چین کے سامراجی مفادات کے سامنے حائل بلوچ تحریک کو حذف کرنے کی شق بھی شامل ہو۔ ـ اس معاہدے کا امکان یوں بھی ہے پاکستان چین اور امریکا دونوں کے مفادات کی دلالی کرتا ہے ـ اگر امریکا اور چین بلوچستان کے معاملے پر کسی نکتے پر متفق ہوجاتے ہیں تو بھارت کو پانی اور کشمیر کے مسئلے پر رعایت دے کر راضی کیا جاسکتا ہے (سعودی عرب کے کردار پر بھی طویل بحث ہوسکتی ہے) ـ گو یہ محض امکانات ہیں ـ بھارت پاکستان یا کھلے لفظوں میں پنجاب میں لڑی جانے والی بھارت چین کی جنگ میں فی الحال غیر یقینی سیز فائر کا اعلان ہوا ہے جس کی پائیداری پر ہنوز شک و شبے کے بادل چھائے ہوئے ہیں پھر بھی اونٹ کسی بھی کروٹ بیٹھے بلوچ کے لئے خیر کا سامان ہنوز دلی دور است جیسا معاملہ ہے ـ ۔

پاکستان بھارت حالیہ کشیدگی کے بعد صورت حال تیزی سے بدلتی جا رہی ہے ـ چین کی کھلی حمایت کے بعد عین ممکن ہے اب چینی سامراج پاکستان کے ذریعے بلوچ مزاحمتی تحریک پر چڑھ دوڑے اور ہم ایک بے رحم جارحیت کا سامنا کریں ـ ۔بی ایل اے کا یہ کہنا درست ہے کہ خطے میں ایک نیو آرڈر ناگزیر ہے مگر اس نیو آرڈر کا مرکز و محور صرف اور صرف بھارت ہو یہ ممکن نہیں لگتا ـ چین نے بھارت کی مغربی ٹیکنالوجی کی دھجیاں اڑا دی ہیں ـ ۔بھارت نے جہاں پاکستان کے اندر مہلک حملے کرکے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے تصور کا بھانڈا پھوڑا ہے وہاں اس کی اپنی بھی فضائی برتری کا تاثر خاک میں ملا نظر آتا ہے ـ ۔چینی سامراج نے فی الوقت بھارت اور اس کے مغربی اتحادیوں کے مقابلے میں خود کو کئی گنا طاقت ور ثابت کردیا ہے ـ ایسے میں نیو آرڈر چین کے بغیر کیسے بن سکتا ہے؟ ـ اگر چین بھی اس نیو آرڈر کا حصہ بننے والا ہے پھر بلوچ جس کے ساتھ وہ کھلے تصادم میں ہے اس کا مقام کہاں بنتا ہے؟ ـ بی ایل اے نے لگتا ہے اس نکتے پر غور کرنا ضروری ہی نہ سمجھا ـ ۔

خطے کی بدلتی صورت حال کے تناظر میں کسی ایک سامراجی ریاست سے امید باندھنا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ ـ بلوچ لبریشن آرمی اگر نظریے کی بجائے عملیت پسند پالیسی اختیار کرنا چاہتی ہے پھر صرف بھارت ہی کیوں، چین سے بھی بات کی جاسکتی ہے ـ چین کے سامراجی اور استحصالی مفادات کی قیمت پر بلوچ قومی آزادی کا حصول خارج از امکان نہیں ہے۔ ـ اسی طرح عرب ، افغان اور ایران سے بھی کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر سودے بازی ممکن ہے ـ مگر کیا یہ بلوچ عوام (محنت کشوں) کے مفاد میں ہوگا؟ ـ اس سوال کا جواب بی ایل اے کے پالیسی ساز خود سے دریافت کریں۔

٭٭٭

Share This Article