بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما سمی دین بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بی وائی سی کے اسیر رہنما بیبوبلوچ پر دوران حراست بے رحمانہ تشددکو انتہائی تشویشناک قراردیتے ہوئے کہا کہ بیبو بلوچ کو پشین جیل منتقل کرنے کے بعد، اس کی صحت کے بارے میں متضاد اطلاعات تھیں، اور انہیں اپنی قانونی ٹیم تک رسائی سے انکار کردیا گیا۔ ہماری تازہ ترین معلومات کے مطابق اسے جیل میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے ان کی صحت میں شدید گراوٹ آئی۔ اسے سی ایم ایچ ہسپتال لے جایا گیا اور بعد میں کوئٹہ کی ہدہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بیبو کو محض ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے پر بے دردی سے سزا دی جا رہی ہے۔ اس کے غیر متشدد احتجاج کا جواب تشدد سے دیا جا رہا ہے۔ ہمیں اس کی حالت پر سخت تشویش ہے۔
سمی بلوچ نے کہا کہ بیبو بلوچ کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اراکین مہرنگ بلوچ، گل زادی بلوچ، بیبگر اور شاہ جی سمیت 3MPO کے تحت درج کیے گئے ایک جھوٹے مقدمے کے تحت حراست میں لیے ہوئے 42 دن سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم حراست میں ان کارکنوں کے ساتھ مسلسل بدسلوکی سے پریشان ہیں۔ ہم قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس ریاستی جبر کے خلاف آواز اٹھائیں اور فوری کارروائی کریں۔