انسانی حقوق کے علمبردار کارکن ایڈووکیٹ جلیلہ حیدر کے خلاف فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔
جلیلہ حیدر کے خلاف درج ایف آئی آر میں ایف آئی اے نے موقف اختیار کیا ہے کہ اُنہوں نے ایکس پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے حق میں انکے موقف کی پرچار کی ہے جوکہ ریاست کے استحکام اور امن و امان کیلئے خطرے کی بات ہے۔
ایڈوکیٹ جلیلہ حیدر نے ایف آئی آر کے متعلق ردعمل دیتے ہوئے فیس بک پر اپنے پوسٹ میں لکھا کہ انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے ایف آئی آر کا پتہ چلا ہے، انہیں براہ راست نوٹس نہیں بھیجا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ان کیسز کا قانون کے دائرے میں سامنا کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران مجھ پر8 ایف آئی آرزدرج ہوئیں، 4 بار ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام عین سفر کے وقت ڈال کر گرفتار کیا گیا۔ میں نے کھبی اس کا ذکر سوشل میڈیا پر نہیں کی۔ اپنے قریبی دوستو اور وکلاء کی مدد لی، کیونکہ جب پہلی مرتبہ ای سی ایل میں گرفتار ہوئی قریبی دوستوں سے سنا کہ یہ مشہور ہونے کے لئے گرفتار ہوئی ہے۔
جلیلہ حیدر نے کہا کہ پھر جو بھی راستے آیا اکیلے لڑی خاموشی سے لڑی، اس ایف آئی آر کا بھی دفاع کر لونگی۔
انہوں نے کہا کہ میرے خلاف ایف آر میں ریاست خود مدعی ہے۔مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے،وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔