ایران کے پاس 2 آپشنز ہیں، ایک انتہائی خطرناک ہے،کیئو پر روسی حملہ درست نہیں تھا، ٹرمپ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوران ’انتہائی سنجیدہ ملاقاتیں‘ ہوئی ہیں۔

امریکی کی جانب سے یہ بیان 24 مئی کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے سفیر سٹیو وٹٹیکر کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور سے دو دن قبل سامنے آیا ہے۔

ناروے کے وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کے موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ایران کے ساتھ بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور بہتری کی اُمید رکھتے ہیں۔‘

انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ’ایران کے پاس صرف دو آپشنز یا راستے ہیں جن میں سے ایک بالکل بھی اچھا آپشن نہیں ہے۔‘

ٹرمپ کے مطابق ’ہم (ایران کے ساتھ معاہدے کے بعد) بہت اچھا فیصلہ کرسکتے ہیں اور بہت ساری زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔‘

امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک حالیہ پریس کانفرنس کے موقع پر کہا کہ ’اس وقت تمام عالمی رہنماؤں میں سے کسی نے بھی جنگ کو روکنے کے لئے ٹرمپ کی طرح محنت نہیں کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اب ایران سے بات کر رہے ہیں یا روس اور یوکرین کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ امن قائم کیا جا سکے۔‘

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سات سال قبل جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی تھی اور ایران پر دوبارہ سے جوہری پابندیاں عائد کردی تھیں۔ اب ایک مرتبہ پھر انھوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر کوئی نیا معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران پر حملہ کریں گے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے دارلحکومت کیئو پر روسی حملے کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ کیئو پر مہلک روسی حملوں سے ’خوش نہیں‘ ہیں اور صدر ولادیمیر پوتن کو ’ایسا نہیں کرنا‘ چاہئے، تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا روس کے خلاف مزید کوئی کارروائی یا کسی بھی قسم کی پابندی لگائی جا سکتی ہے یا نہیں۔

جمعرات کی شب یوکرین کے دارالحکومت کیئو پر ہونے والے روسی حملوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے فریقوں پر ’بہت زیادہ دباؤ‘ ڈال رہے ہیں۔

یہ دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں تازہ ترین رکاوٹ ہے، جس کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے گزشتہ سال اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ دونوں مُمالک کے درمیان امن معاہدہ کروانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’یہ سب ضروری نہیں تھا اور نہ ہی یہ کوئی مناسب وقت ہے، ولادیمیر، رک جائیں!‘

یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب یوکرین اور صدر ولادیمیر زیلنسکی پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ امن معاہدے کے حصے کے طور پر اپنی ہی سرزمین پر روسی قبضے کو قبول کریں۔

جمعرات کے روز ٹرمپ ناروے کے وزیر اعظم جونس گاہر سٹرے کے ہمراہ وائٹ ہاؤس میں موجود تھے جہاں اُن کا کہنا تھا کہ ’ہماری ہمدردی کسی ایک کے لیے بھی نہیں ہے ہمیں فکر بس جانوں کے ضیاع کی ہے۔‘

اگرچہ انھوں نے پوتن سے مایوسی کا اعتراف کیا ٹرمپ نے کہا کہ وہ ’یہ دیکھنے کے لئے ایک ہفتہ انتظار کریں گے کہ آیا ہمارے پاس کوئی معاہدہ ہے، لیکن اگر بم دھماکے ختم نہیں ہوتے تو ’حالات مختلف ہوں گے۔‘

واضح رہے کہ 24 اپریل کی شب یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں روسی میزائل اور ڈرون حملے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور بچوں سمیت 80 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

Share This Article