پنجگور میں درجنوں اسکول گھوسٹ اساتذہ کی بھرتیوں کے باعث بند

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع پنجگور میں گھوسٹ ملازمین کی بھرتیوں کی وجہ سے ضلع بھر میں بہت سے ٹیچرز سرپلس ہیں۔

مختلف سرکاری اسکولوں سے جو ٹیچرز ریٹائرمنٹ پر چلے گئے ہیں ان کی جگہ تعیناتی کرنے کی بجائے سر پلس کو کھپایا جارہا ہے جس کی وجہ سے بہت سے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی ہے جس سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔

دوسری جانب کھاتہ سسٹم کو فروغ دینے کے لیے بہت سے ٹیچرز اصل تعیناتی کی جگہ کی بجائے اٹیچ کرکے ڈیوٹی سے آزاد کر دیئے گئے ہیں اسی وجہ سے درجنوں اسکول یا تو بند ہیں یا غیر فعال ہیں۔

اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پنجگور کا موقف لینے کی کئی بار کوشش کی گئی مگر وہ دستیاب نہ ہوسکے۔

ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے تبادلے کے بعد کوئی موجود نہیں، حکومت تعلیمی ایمرجنسی کی بات کررہی ہے مگر ڈسٹرکٹ پنجگور میں نہ صرف تعلیمی نظام متاثر ہے بلکہ درجنوں اسکول بند پڑے ہیں۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بہت سے اسکول میں اصل ٹیچرز کی جگہ دوسرے ڈیوٹی دے رہے ہیں جبکہ بہت سے سرکاری اسکول بند ہونے سے کھنڈر کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پنجگور میں تعلیمی نظام مزید انحطاط کا شکار رہے گا۔

عوامی حلقوں نے اپیل کی ہے کہ سیاسی مداخلت اور سیاسی پناہ ٹیچرز کو نہ دیی جائے تاکہ تعلیمی نظام میں بہتری آئے۔

Share This Article