انسانی حقوق کے کارکن اور وکیل اسرار بلوچ ایڈووکیٹ نے انکشاف کیا ہے کہ جمعرات کے روز بارہ بجے کے قریب کچھ نقاب پوش افراد ان کے کوئٹہ میں واقع رہائش گاہ میں زبردستی داخل ہوئے، جہاں انہوں نے ان کے چھوٹے بھائیوں کو یرغمال بنایا، گھر کی تلاشی لی، سامان بکھیر دیا اور چند اہم کتابیں اور کاغذات اپنے ساتھ لے گئے۔
اسرار بلوچ کا کہنا ہے کہ یہ افراد مسلسل ان کے بارے میں پوچھ گچھ کرتے رہے، اور جاتے ہوئے خاندان کو سخت دھمکیاں دے کر چلے گئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ ایک ماہ سے ان کے خاندان کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے، اور ایف سی کیمپ پر حاضر ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اہلکاروں کا اصرار ہے کہ اسرار بلوچ کو "سمجھایا جائے” کہ وہ سیاسی سرگرمیوں سے باز آ جائیں، ورنہ نتائج کے ذمہ دار خود ہوں گے۔
اسرار بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنوں پر جاری کریک ڈاؤن، جبری گمشدگیوں، اور جھوٹے مقدمات کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کی سزا انہیں اور ان کے خاندان کو دی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ایسے ہتھکنڈوں سے دبنے والے نہیں، حق اور سچ کی لڑائی جاری رہے گی۔ اگر مجھے یا میرے خاندان کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی مکمل ذمہ داری ریاستی اداروں پر ہوگی۔
اس واقعے پر سینئر وکیل اور انسانی حقوق کے علمبردار حبیب کریم ایڈووکیٹ نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ جووکلا بلوچ سیاسی اسیران کے مقدمات لڑ رہے ہیں، ان کے گھروں پر چھاپے مارنا اور اہلِ خانہ کو ہراساں کرنا کھلی فسطائیت ہے۔ بلوچستان میں آئین کو عملاً معطل کر دیا گیا ہے، اور یہ صورتحال خطرناک حد تک بگاڑ کا شکار ہو چکی ہے۔
انہوں نے بلوچستان بار کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے کا سخت نوٹس لے اور وکلاء کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔یہ واقعہ نہ صرف وکلا برادری بلکہ بلوچستان میں انسانی حقوق اور آئینی تحفظات کے حوالے سے اٹھتے ہوئے سنگین سوالات کا عکاس ہے۔ اگر یہ طرزِ عمل جاری رہا تو انصاف کا حصول اور بنیادی حقوق محض کتابی باتیں بن کر رہ جائیں گے۔