بلوچستان میں پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کی مارو پھینکو پالیسی کے تحت جبری گمشدگیوں کا سلسلہ شدت کے ساتھ جاری ہے ۔
گذشتہ روز بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیر سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا 17 سالہ کزن کزن سلال ولد ڈاکٹر نصیر سمیت مزید 4 نوجوانوں کو فورسز وخفیہ اداروں نے حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔
نادیہ بلوچ، جو کہ ڈاکٹر ماہ رنگ کی بہن ہیں، نے میڈیا کو بتایا ہے کہ سلال بلوچستان ریزیڈنشیل کالج (BRC) لورالائی کا سیکنڈ ایئر کا طالبعلم ہے۔ وہ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ کوئٹہ کے علاقے چلتن میں پکنک منا رہا تھا، جب اسے خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے دن دہاڑے، اس کے خاندان کے دیگر افراد کے سامنے زبردستی گاڑی میں ڈال کر اپنے ساتھ لے گئے۔
نادیہ بلوچ کے مطابق، سلال ایک ذہین طالبعلم ہے جو 22 اپریل کو اپنے اہم تعلیمی امتحانات دینے والا تھا اور MDCAT کی تیاری میں مصروف تھا۔ “ایک طالبعلم جس کا مقام اس وقت کلاس روم یا اسٹڈی ڈیسک ہونا چاہیے تھا، وہ اب ریاستی اداروں کی غیرقانونی حراست میں ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے خاندان اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے والے تمام افراد کو براہ راست اور بالواسطہ دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ “یہ محض ایک فرد کا اغواء نہیں، بلکہ ایک پوری قوم کو خاموش کرانے کی منظم کوشش ہے۔ یہ اجتماعی سزا ہے، ریاستی بربریت ہے، اور اس ظلم کو ختم ہونا چاہیے۔
اسی طرح 13 اپریل کو کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈگاری سے دو نوجوان نصیر ساتکزئی ولد قیصر خان اور اکرام ساتکزئی ولد نور خان کو فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ۔
لواحقین نے انکی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے ۔
ادھر ضلع خضدار سے فہد نامی نوجوان کوجبری طور پر لاپتہ کردیا گیاہے۔
لواحقین کے مطابق فہد بلوچ جس کی عمر 16 سال ہے، کلی براہمزٸی سے تعلق رکھتا ہے، انہیں 10 اپریل 2025 کو اپنے چند دوستوں کے ساتھ وڈھ سے چھارو مچھی پکنک کیلٸے جارہا تھا خضدار چمروک ایریا سے نامعلوم مسلح افراد نے ساتھیوں سمیت اغوا کرلیا۔
لواحقین نے کہاکہ دو دن بعد ساتھیوں کو چھوڑا گیا لیکن فہد جان ابھی تک ان کے تحویل میں ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے تمام کرداروں سمیت بی وائی سی سے اپیل کرتے ہیں فہد بلوچ کی بازیابی میں ہمارے مدد کریں۔