بلوچستان میں شاہراہوں کی بندش سے امپورٹرز و ایکسپورٹرز کو یومیہ کروڑوں کے نقصانات کا سامنا

ایڈمن
ایڈمن
8 Min Read

بلوچستان میں اسیر بلوچ رہنمائوں کی رہائی کیلئے بی این پی کی لانگ مارچ روکنے کے لئے حکومت کی جانب سے مرکزی شہر کوئٹہ سے منسلک مین شاہراہوں کی بندش سے امپورٹرز و ایکسپورٹرز کو یومیہ کروڑوں کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یاد رہے کہ حکومت نے لانگ مارچ کوکوئٹہ داخل ہونے سے روکنے کیلئے قندخیں کھودیں اور بڑے بڑے کنٹینرز کی رکاوٹیں ڈال کر شہر کو بلوچستان و پاکستان کے دیگر حصوں سے منقطع کردیا ہے ۔

دوسری طرف حکومت کی جانب سے راستوں کی بندش پر لانگ مارچ شرکا نے مستونگ میں کوئٹہ کے داخلی راستے پر لکپاس کے مقام پر دھرنا دیدیا ہے جو آج تیسرے ہفتے میں داخل ہوچکا ہے ۔

ایوان صنعت و تجا رت کو ئٹہ بلو چستان کے صدر حا جی محمد ایوب مر یا نی نے حکومت اورلکپاس ٹنل دھرنا کے شرکا ءسے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان کی عوام اور تجا رت پیشہ افراد کی مشکلات کے پیش نظر قومی شاہرا ہ کھولنے کےلئے لچک کا مظاہرہ کریں ۔

ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز چیمبر آف کا مرس اینڈ انڈسٹری کو ئٹہ بلو چستان کے عہدیداران و ممبرا ن کے ہمرا ہ پریس کانفرنس کرتے ہو ئے کیا ۔

پریس کانفرنس میں ڈپٹی کمشنر کو ئٹہ لیفٹیننٹ (ر)سعد بن اسد نے بھی شرکت کی ۔

پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہو ئے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو ئٹہ بلو چستان کے صدر حاجی محمد ایوب مر یا نی نے کہا کہ ایک طرف ہمسائیہ مما لک کے ساتھ بارڈرز کی بندش سے لو گوں کی بہت بڑی تعداد اپنے روزگا رسے ہا تھ دھو بیٹھے ہیں تو دوسری جا نب آ ئے روز شاہراہوں کی بندش ، بدامنی و دیگر کی وجہ سے تجا رت تبا ہ حال ہے اس وقت بھی تفتان بارڈرپر 800بوزرز و دیگر ما ل بردار جبکہ 200فریش آ ئٹمز پھلوں ، مچھلیوں ، کھجوروں اور سبزی جا ت کے کنٹینرز پھنسے ہو ئے ہیں جس کی وجہ سے ناصرف امپورٹرز اور ایکسپورٹرز کو یومیہ کروڑوں روپے نقصانات کا سامنا ہے بلکہ ما ل بردار گاڑیوں میں مو جو د سامان کے خرا ب ہو نے کے بھی خدشات پیدا ہو چکے ہیں ۔

ڈپٹی کمشنر کو ئٹہ اور حکومتی حکام فریش آئٹمز ، سبزی ، پھلوں ، مچھلی بردار کنٹینرز کو منزل مقصود تک پہنچنے کےلئے جنگی بنیا دوں پر اقدامات اٹھا ئے ورنہ اشیا ئے ضروریہ و خورد و نو ش کی کمی اور ان کی قیمتوں میں بے پنا ہ اضافہ فطری ہو گا ،انہوں نے پنجگور میںکھاد بر دار کنٹینرز کو نذر آتش کر نے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مذکو رہ کنٹینرز میں ٹرانزٹ کا ما ل تھا اس طرح کے واقعات سے سرما یہ کا روں کے اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے اور کا روبا ر ی سرگر میاں معطل ہو جا تی ہیں بلکہ ڈیوٹی ٹیکسز و دیگر مدات میں حکومت کو ملنے والی ریوینو بھی ختم ہو جا تی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ہمسائیہ مما لک کے ساتھ ترکی اور ایران طرزپر تجا رت کر نا چا ہئے جن کا دوطرفہ تجا رتی حجم 10ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جن سے ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اقتصادی اور کا روبا ری سرگر میوں پر اسی طرح قد غنیں رہی تو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جا نب سے بلو چستان میں مقررہ کر دہ130ارب روپے کے ٹیکسز کا ہدف پورا نہیں ہو گا ۔

انہوں نے حکومت اور بلو چستان نیشنل پارٹی کے عہدیداران سے درخواست کی کہ وہ عوامی مشکلات کے پیش نظر شاہرا ہ کو کھولنے کےلئے لچک کا مظاہرہ کریں تا کہ معاشی سرگر میاں جمود کا شکا ر نہ ہو ں اور عوام کو مسائل کا سامنا نہ کر نا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی کو پھنسی ہو ئی ما ل بردار گاڑیوں کی 100ڈالر یو میہ ڈیمرجز کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں بزنس کمیونٹی کی بڑی قدر و منزلت ہیں مگر بدقسمتی سے یہاں ایسا نہیں ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایلون مسک کی ہر با ت سے اتفاق کر تے ہیں ہمارے آج کا پریس کانفرنس کسی کے حق میں یا خدا نخواستہ کسی کے خلا ف نہیں بلکہ ہم نے عوام اور بزنس کمیونٹی کی آواز کو فریقین اور حکام با لا تک پہنچا نے کے لئے صدائے حق بلند کی ہے ہما ری بلو چستان نیشنل پارٹی و دیگر سیاسی جما عتوں سے بھی اپیل ہے کہ وہ خدا راہ عوام کی مشکلا ت کو مدنظر رکھیں اور ان پر رحم کرے۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر لیفٹیننٹ (ر)سعد بن اسد کا کہنا تھا کہ دھرنے کے شرکا ءکے ساتھ گفت وشنید جا ری ہے اس لئے ان کے خلا ف کا رروائی نہیں کی جا رہی احتجاج اور دھر نے سے قومی شاہرا ہ بند ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں اشیا ئے خورد و نو ش کے ڈیمانڈ اور سپلا ئی متاثر ہو گئی ہے کسی کو بھی بلوچستان دارالحکومت کو ئٹہ کو جا م کر نے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔

واضع رہے کہ شاہراہیں خود حکومت نے بند کی ہوئی ہیں۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تھری ایم پی او کے تحت بند قیدیوں و دیگر با رے معاملہ عدالت میں زیر سما عت ہے اس لئے وہ اس پر را ئے زنی نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مرغی کا گوشت بلوچستان کے با ہر سے آ رہا ہے اور حالیہ احتجاج اور دھرنے کی وجہ سے اس کی بھی ڈیمانڈ اینڈ سپلا ئی متاثر ہو ئی ہے جس کی وجہ سے مرغی کے گوشت کی قےمتیں بڑھی ہے البتہ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کی جا نب سے جا ری کر دہ نرخنا مہ کی کسی کو خلا ف ورزی کی اجاز ت نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ دھر نے کے شرکا ءکو لکپاس ٹنل پر روکنے کا مقصد ہجوم کا کو ئٹہ میں آ نے کا راستہ روکنا تھا کیو نکہ اس سے قبل بھی احتجاج کے دوران سیف سٹی کیمروں و دیگر املاک کو نقصان پہنچا یا گیا ہے

انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی پارٹی سے اپیل کر تے ہیں کہ وہ عوام کی مفاد کی خاطر قومی شاہرا ہ کو کھولے تا کہ اشیا ئے خورد و نو ش اور ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام اور اقتصادی خسارے میں کمی ہو سکے ۔

Share This Article